بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

خون عطیہ کرنے کا حکم


سوال

کسی کو خون عطیہ کرنا جائز  ہے یا نہیں؟

جواب

خون ایک امانت خداوندی ہےاس لیےشرعی نقطہ نظر سے انسانی عزت وعظمت کی خاطراس کو بیچنےاوراس میں انسان کواپنی مرضی سےتصرف کرنے کی اجازت نہیں، البتہ ضرورت کا دائرہ الگ ہے کہ اگر کوئی مریض اضطراری حالت میں ہو ،اور ماہر ڈاکٹر کی نظر میں خون دیئے بغیر اس کی جان جانے یا مرض طویل ہوجانے کا اندیشہ ہو اور اس کے علاوہ کوئی اور راستہ بھی نہ ہو، تو ایسی صورت حال میں خون دینا جائز ہے اور اس طرح ایک مسلمان کی جان بچانے پر ثواب کی بھی امید ہے ۔

 

قال اللہ تعالی:﴿ومن أحياها فكأنما أحيا الناس جميعا﴾(سورۃ المائدۃ:32)

و یجوز للعلیل شرب الدم، والبول، واکل المیتة للتداوي إذا أخبرہ طبیب مسلم أن شفائه فیه ولم یجد من المباح ما یقوم مقامه.

( الفتاویٰ الهندیة ،ألباب الثامن عشر فی التداوي والمعالجات ،ج 5:، ص355:)


فتویٰ نمبر : 6138/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور