بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
غیر مسلم کا پیسہ مدرسہ کی تعمیر میں خرچ کرنا
سوال
اگر عیسائی کسی مدرسہ کی تعمیر کے لیے پیسے دینا چاہے تو کیااس سے پیسے لینا اور مدرسہ کی تعمیر میں لگانا جائز ہوگا یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگرغیر مسلم کسی دینی ادارے کی تعمیر کے لیے پیسے دے کر اپنے عقیدے کے مطابق اچھا کام اور ثواب کا کام سمجھتا ہو اور یہ اندیشہ نہ ہو کہ وہ اس کے نتیجے میں کوئی غلط مقصد حاصل کریں گے، تو اس صورت میں غیر مسلم کا پیسہ دینی اداروں میں استعمال کرنا شرعا جائز ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگرعیسائی مدرسہ کی تعمیر کے لیے پیسے دے دے اور اس کے بدلے کسی غلط مقصد کے حصول کا اندیشہ نہ ہو،تو اس کو مدرسہ کی تعمیر میں خرچ کیا جا سکتا ہے۔
"شرط وقف الذمي أن يكون قربة عندنا وعندهم كالوقف على الفقراء أوعلى مسجد القدس"۔(ردالمحتار، کتاب الوقف،مطلب قد يثبت الوقف بالضرورة، ج:6، ص:524)
"وأما الإسلام فليس من شرطه فصح وقف الذمي بشرط كونه قربة عندنا وعنده"۔ (البحرالرائق،كتاب الوقف،ج:5،ص:316)