بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
گرافکس اور پرنٹنگ کے کام میں تصاویر بنانا
سوال
میرا گرافکس اور پرنٹنگ کا کام ہے، لیکن آج کل ہر چیز میں کسٹمرز اپنی پبلسٹی کے لیے تصویریں لگواتے ہیں، میں نے نیا کام شروع کیا ہے، لیکن میرا ضمیر تصویر والے کام کی اجازت نہیں دیتا، تو کیا کسٹمرز کے لیے جاندار (ذی روح )تصویر اتارنا جائز ہے؟
جواب
واضح رہے کہ جاندار (ذی روح)کی تصویر بنانا یا بنوانا دونوں شرعا ممنوع ہے،خواہ تصویر دیوار پر بنائی جائے یا کاغذ پر یا کپڑے پر یا کسی پوسٹر وغیرہ پر،چاہے قلم سے بنائی جائے یا مشین سے یا کسی اور آلہ سے ،بہر صورت ناجائز اور حرام ہے۔احادیث مبارکہ میں تصاویر بنانے کے متعلق بڑی وعیدیں آئی ہیں۔ حدیث شریف میں اس عمل کو اللہ تعالی کے ساتھ صفتِ خلق (پیدائش)میں مشابہت اختیار کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔تاہم کوئی واقعی ضرورت ہو، تو ضرورت کے پیش نظر تصویر بنوانے کی گنجائش ہوگی۔
صورت مسئولہ کے مطابق گرافکس اور پرنٹنگ کے کام میں محض پبلسٹی کے لیے جان دار (ذی روح) کی تصاویر بنانا شرعاً جائز نہیں، اس لیے اس سے احتراز کیا جائے۔
"قال: كنا مع مسروق، في دار يسار بن نمير، فرأى في صفته تماثيل، فقال سمعت عبدالله ، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول :إن أشد الناس عذابا عند الله يوم القيامة المصورون"۔(صحيح البخاري، كتاب اللباس، باب عذاب المصوّرين يوم القيامة، رقم الحديث: 5951، ج:1، ص:77)
"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها"۔(ردالمحتار، كتاب الصلاة، باب ما يفسدالصلاة وما يكره فيها، ج:1، ص:416)