بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
قبضہ میں آنے سے پہلےکسی چیز کوفروخت کرنا
سوال
ایک شخص پراڈکٹ 120روپے پر خریدتا ہے لیکن اس پر اس نے قبضہ نہیں کیا ہوتا اور اس کو قبضہ کے بغیر 140 پر فروخت کرتا ہے اور وہ خریدار کسی اور پر 160 روپے پر قبضہ کےبغیر فروخت کرتا ہے تو کیا اس طرح معاملہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
خرید وفروخت کے جائز ہونے کی بنیادی شرطوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مبیع (جس چیز کو بیچا جارہا ہے ) موجود ہو ،محض فرضی چیز نہ ہو،اور خریدنے کے بعد اس پر قبضہ کر کے ہی آگے فروخت کیا جائے ، چنانچہ اگر کوئی چیزموجود نہ ہو یا قبضہ میں نہ ہو تو اس کی بیع جائز نہیں۔
صورت مسئولہ کے مطابق قبضہ کیے بغیر کسی چیز کو آگے ایک دوسرے پر بیچنا جائز نہیں۔
"ومنها وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عندالبيع فإن لم يكن لا ينعقد وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة وهذا بيع ما ليس عنده"۔(بدائع الصنائع،ج:5،ص:146)
"من حكم المبيع إذا كان منقولا أن لا يجوز بيعه قبل القبض"۔(الفتاوى الهنديه، كتاب البيوع، الفصل الثالث في معرفة المبيع والثمن والتصرف فيهما قبل القبض، ج:3، ص:13)
"أما النهي عن بيع ما ليس عندك فالمراد منه ما ليس في الملك اتفاقا"۔(فتح القدير على الهداية، ج:6، ص:336)