بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
بھنگ کی کاشت اور اس میں عشر
سوال
ہمارے علاقے میں لوگ چرس نکالنے کے لیے بھنگ کی کاشت کرتے ہیں اکثر لوگ اس میں مبتلاء ہیں کہ جب کٹائی کے لیے ایک ماہ رہتا ہوتو بیچنا شروع ہوجاتا ہے تو پوچھنا یہ ہے کہ عشر بائع پر ہوگا یا مشتری پر؟دوسرا سوال یہ ہے کہ بعض لوگ فروخت نہیں کرتے بلکہ خود اس سے چرس نکالتے ہیں تو کٹائی کے وقت فصل کی قیمت دس لاکھ ہوتی ہے اور محنت کرنے کے بعد اس کی قیمت پندرہ لاکھ ہوتی ہے تو اب عشر دس لاکھ کے حساب سے نکالے گا یا پندرہ لاکھ کے حساب سے؟
جواب
آج کل معاشرے میں بھنگ کا استعمال بالعموم مضر صحت منشیات کے طور پر ہوتاہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں یہ بطور منشیات متعارف ہے، اور لاکھوں لوگ اس کے عادی بن کر اپنی صحت اور زندگی کوداؤ پر لگا چکے ہیں۔چنانچہ ان حالات کےپیش نظر ہر عام وخاص کے لیےاس کی کا شت کرنا جائز نہیں اور نہ ہی اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہے۔البتہ اگر حکومت دواؤں میں استعمال کی خاطریا کسی اور جائز مقصد کے لیے اپنی نگرانی میں محدود پیمانے پر اس کو کاشت کرے تو اس کی گنجا ئش ہوگی۔
صورت مسئولہ کے مطابق جب بھنگ کی کاشت منشیات جیسے چرس وغیرہ ہی کے لئےکی جاتی ہو تویہ کاشت پوری ضائع کردی جائے،اور اگر اس کو فروخت کرکے مال حاصل کیا گیاہو تو اس کو بلا نیت ثواب فقرا پر صدقہ کرنا ضروری ہے۔
عن أنس قال كنت ساقي القوم في منزل أبي طلحة وكان خمرهم يومئذ الفضيخ فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم مناديا ينادي ألا إن الخمر قد حرمت فقال لي أبوطلحة اخرج فأهرقها قال فخرجت فهرقتها فجرت في سكك المدينة۔(صحيح البخاري،كتاب الغصب باب في المظالم ،باب صب الخمرفي الطريق،رقم الحديث :2464ج2ص656)
عن نافع،عن ابن عمر،ان رسول الله صلی الله عليه وسلم قال "كل مسكرخمر۔وكل مسكر حرام"(صحيح مسلم،كتاب الأشربة،باب بيانه أنه كل مسكر خمر،وأنه كل خمرحرام،رقم الحديث:2003،ج3ص1587)
(قوله: كما لو كان الكل خبيثا) في القنية ولو كان الخبيث نصابا لا يلزمه الزكاة؛ لأن الكل واجب التصدق عليه فلا يفيد إيجاب التصدق ببعضه.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،كتاب الزكاة،باب زكاة الغنم،ج3ص218)
ويجب العشر عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى في كل ما تخرجه الأرض من الحنطة والشعير والدخن والأرز وأصناف الحبوب والبقول والرياحين والأوراد والرطاب وقصب السكر والذريرة والبطيخ والقثاء والخيار والباذنجان والعصفر وأشباه ذلك مما له ثمرة باقية أو غير باقية قل أو كثر(الفتاوی الهندية،كتاب الزكاة،الباب السادس:فى زكاةالزرع والثمار،ج1ص247)