بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

شیخ فانی کے لیے رمضان کے روزوں کا حکم


سوال

ایک  بوڑھی عورت سے بیماری کی وجہ سے رمضان کے روزے  رہ گئے،پھر   رمضان کے بعد اس نے قضاء کا ارادہ کیا  ،لیکن   پھر کمزوری کی وجہ سے نہ رکھ سکی یہاں تک کہ دوسرا رمضان آیا ،پھر  اسی طرح  رمضان کے کچھ روزے رکھ لیتی ہے لیکن استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے پورے نہیں کر پاتی، تو کیا اس پر  روزوں کی  قضاء  کرنا لازم ہے یا فدیہ دینے سے اس کا ذمہ فارغ ہوجائےگا ؟

جواب

اگر کسی مریض کی صحت یابی کی امید  نہ ہو،اور  مرض کے ہوتے ہوئے روزہ رکھنے پر قادر نہ ہویا روزہ رکھنے سے مرض بڑھ جانے کا قوی امکان ہواور ماہرو دیندار  ڈاکٹر بھی  مریض کو روزہ نہ رکھنے کا مشورہ دے تو ایسی صورت میں اس کو روزہ نہ رکھنے اور اس کے بدلے فدیہ دینے کی گنجائش ہے۔

   صورت مسئولہ میں مذکورہ عورت کو اگر صحت مند ہونے کی  امید نہ ہو تو   روزوں کے بدلے فدیہ دے گی ۔جس کی مقدار ایک صدقہ فطر ہے۔البتہ اگر وہ  فدیہ دینے کے بعد صحت مند ہوجائے تو بھی افطار کردہ روزوں کی قضاء رکھے گی۔

 

المريض إذا تحقق اليأس من الصحة فعليه الفدية لكل يوم من المرض ۔(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الصوم، فصل في العوارض المبيحة لعدم الصوم، ج:3، ص:410)

المريض إذا خاف على نفسه التلف أو ذهاب عضو يفطر بالإجماع وإن خاف زيادة العلة وامتدادها فكذلك عندنا وعليه القضاء إذا أفطر كذا في المحيط ثم معرفة ذلك باجتهاد المريض والاجتهاد غير مجرد الوهم بل هو غلبة ظن عن أمارة أو تجربة أو بإخبار طبيب مسلم غير ظاهر الفسق۔۔۔ولو قدر على الصيام بعد ما فدى بطل حكم الفداء الذي فداه حتى يجب عليه الصوم هكذا في النهاية۔(الفتاوى الهندية، كتاب الصوم، الباب الخامس في الأعذار التي تبيح الإفطار، ج:1، ص:228)


فتویٰ نمبر : 10256/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور