بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
ٹینکی میں نامعلوم مدت سے مردہ چوہے کا پایا جانا
سوال
ہمارے گاؤں میں ایک مدرسہ ہے، اس مدرسہ کی ٹینکی میں چوہا مرچکا تھا ، کئی دن بعد معلوم ہوا،اور پھر نکال دیا،اس پانی سے طلبا نے وضو بھی کیا ہے اور کپڑے وغیرہ بھی دھو ئے ہیں، اسی طرح اس پانی سےگیلے پاؤں سے مسجد کی قالین بھی گیلی ہوچکی ہے، سوال یہ ہے کہ ان نمازوں اور کپڑوں وغیرہ کا کیا حکم ہے؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کسی کنویں یا ٹینکی میں کوئی حیوان مردہ پایا جائے اور یہ یقینی طور پر معلوم نہ ہو کہ کب گرا ہے تو صاحبین کے نزدیک اس مردہ حیوان کےنکلنے کے وقت سےیہ پانی نجس سمجھا جائے گا،کیونکہ ابھی تک اس پانی کی طہارت یقینی تھی اور شک کی وجہ سےوہ یقین متاثرنہیں ہوگا، چونکہ صاحبین کے اس قول میں مشقت کی بجائے سہولت ہے اس لیے عموماً فقہائے کرام اس کو راجح قرار دیتےہیں۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگر واقعی یقینی طور پر معلوم نہ ہو کہ چوہا ٹینکی میں کب گرا ہے تو اس کےنکلنے کے وقت سےیہ پانی نجس سمجھا جائے گا، اوراس سے پہلے اس پانی سے طلبا نے اگر وضو کرکے نمازیں پڑھی ہوں توان گزشتہ نمازوں کا اعادہ ضروری نہیں اور اگرکپڑے وغیرہ دھوئے ہوں تو وہ بھی پاک متصور ہوں گے۔
"وإذا وجد في البئر فأرة أو غيرها، ولا يدرى متى وقعت ولم تنتفخ، أعادوا صلاة يوم وليلة إذا كانوا توضئوا منها وغسلوا كل شيء أصابه ماؤها، وإن كانت قد انتفخت أو تفسخت أعادوا صلاة ثلاثة أيام ولياليها، وهذا عند أبي حنيفة - رحمه الله - وقالا: ليس عليهم إعادة شيء حتى يتحققوا متى وقعت. كذا في الهداية وإن علم وقت وقوعها يعيدون الوضوء والصلاة من ذلك الوقت بالإجماع".(الفتاوى الهندية،کتاب الطهارۃ،الباب الثالث فی المیاہ،ج:1،ص:20)
"(قوله قيل وبه يفتى) قائله صاحب الجوهرة. وقال العلامة قاسم في تصحيح القدوري: قال في فتاوى العتابي: قولهما هو المختار."(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الطهارة، باب المياه، فصل في البئر، ج1، ص:378)