بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

وسوسہ میں مبتلا شخص کی طلاق


سوال

مجھے کافی عرصہ پہلے سے وہم کی بیماری تھی ،لیکن پہلےطلاق کا وہم نہیں تھا ،پچھلے آٹھ مہینوں سے طلاق کا وہم آتا ہے ،،آٹھ مہینےپہلے میں مسئلہ سیکھنے کی غرض سے آپ کے دارالافتاء پر اور جتنے حنفی دارالافتاء ہیں سب پر طلاق سےمتعلق مسئلہ پڑھتا رہا، وہمی لوگوں کےسوال پڑھ پڑھ کر میرا دماغی توازن بالکل خراب ہو گیا ہے ،نفسیاتی مریض بن گیا ہوں،فتویٰ میں پڑھا ہوالفظ میرے دماغ میں گھومتا رہتا ہے ،ہر وقت لگتا ہے من ہی من میں وہ لفظ بول رہاہوں،کھانا کھاتے وقت بھی یہی خیال دماغ میں مسلّط رہتا ہے ،جیسے لقمہ منہ میں ڈالنے کے لئے منہ کھولتا ہوں طلاق کا خیال آجاتا ہے،اور وہم وشک ہوتا ہے کےطلاق  کا لفظ نکل گیا، ہر لقمہ میں طلاق کالفظ نکل جانے کا وہم ہوتا ہے جب کہ زبان سے حقیقت میں کوئی تلفّظ طلاق کا نہیں کرتا ، اور نہ ہی آواز نکالتا ہوں،اُس کے باوجود ہر ہر لقمہ میں طلاق کالفظ نکل جانے کا وہم ہوتا ہے ،لقمہ منہ میں ڈالتے وقت اور کھاتے وقت ظاہر سی بات ہے کےہونٹ ہلتے ہیں زبان بھی ہلتی ہے،ہونٹ اور زبان کا ہلنا مُجھے وہم وشک میں ڈالتا ہے کےطلاق کا تلفّظ ہو گیا،لقمہ منہ میں ڈالتے وقت منہ سے آنے والا کوئی بھی آواز طلاق کا آواز ہی لگتا ہے ،خاموش جگہ پر کھاتا ہوں تو کم وہم ہوتا ہے، منہ سے جو آواز نکلتا ہے سن پاتا ہوں ،جب کے بازار،مارکیٹ شور والی جگہ میں تو کھانا کھا ہی نہیں سکتا ،زبان کسی بھی وجہ سے ہلتا ہے تُو وہم ہوتا ہے کی طلاق کا تلفّظ ہو گیا ،لوگوں سے بات چیت بھی بند کر چکا ہوں کیوں کہ بات کرتے ہوئے زبان کی کوئی بھی لڑکھڑاہٹ ہوتی ہے تو وہم ہوتا ہے ،یہاں تک کی جب میں نماز پڑھتا ہوں تو وہم ہوتا ہے کے طلاق کالفظ نکل گیا،جو بھی تسبیح پڑھتا ہوں زور  سے پڑھتا ہوں کےآواز سن سکوں،کبھی کبھی تو وسوسہ اتنی شدّت سے آنے لگتا ہے کے تسبیح بھی پڑھنے کے لئے منہ نہیں کھول پاتا ،غیر اختیاری یا اختیاری طور پرجو بھی طلاق کا خیال آتا ہے ،اُسے میں لکھ لیتا ہوں کی فلاں وقت جو خیال آیا تھا وہ محض خیال تھا کوئی لفظ یا آواز نہیں نکلی ہے،اس طرح دن بھر میں جب اور جتنی بار خیال آتا ہے میں لکھتا ہوں دن بھر میں پچاس بار سے بھی زیادہ بار لکھ دیتا ہوں جب خیال آتا ہے ،جس وقت خیال آتا ہے اگراُس وقت کےاحوال نہ لکھوں،تو بعد میں وہم ہوتا ہے کے کچھ دیر پہلے جو طلاق کا خیال آیا تھا وہ من ہی من میں تھا یا کہیں زبان سے تو نہیں بول دیا،کھاتے پیتے دماغ میں آنے والے خیالات سے لڑتے جھگڑتے دن بھر میں کم از کم پانچ بار یہ وہم اور شک ہوتا ہے کے طلاق واقع ہو گئی ،،حقیقت میں واقع ہوئی  یا نہیں اللہ جانتا ہے،جب بھی طلاق کا لفظ منہ سے نکل جانے کاوہم اور شک ہوتا ہےتو شیطان دماغ میں خیال ڈالتا ہے کہ طلاق ہو گئی ہے ،حرام کو حلال سمجھنا کفر ہے،طلاق کا مسئلہ میرے دل و دماغ میں ڈر اور خوف کی طرح بیٹھ گیا ہے،کہ منہ کھولوں گاتو طلاق کا لفظ نکل جائےگا ،اس ڈر کی وجہ سے منہ ہی نہیں کھولتا یہاں تک کہ چھینک آتا ہے ،جمائی آتی ہے پھر بھی وہم وشک میں پڑجاتا ہوں، بہت اذیّت والی زندگی جی رہا  ہوں،وہم سے نجات نہیں مل پا رہا ہے، زندگی عجیب بن گئی ہے بس روتا ہوں خودکشی کا خیال آتا ہے،زندگی سے مایوس ہوچکاہوں،کسی مفتی صاحب کو سوال بھیجتا ہوں تو وہ شاید پاگل سمجھ کر جواب ہی نہیں دیتے ہیں جب کہ آٹھ مہینے پہلے میں ٹھیک تھا ایک مسجد کا امام تھا حافظ بھی ہوں،آپ سے گزارش کرتا ہوں کے میری مدد کیجئے ،مجھے اس عذاب سے نجات دلائے، مجھ جیسے نفسیاتی اور وہمی انسان کے لئے شریعت کا کیا مسئلہ ہے کے وہمی اورنفسیاتی مریض کی طلاق کب واقع ہوتی ہے؟

جواب

شریعت مطہرہ کےمطابق بیوی پرطلاق واقع ہونےکےلیےطلاق کےالفاظ کا ہونا ضروری ہےاوران الفاظ کی نسبت بیوی کی طرف ہونا بھی ضروری ہے لہذا اگرزبان سے طلاق کےالفاظ نہ کہےجائیں،محض ذہن میں اختیاری یا غیراختیاری طور پر طلاق کے وسوسےاور خیالات آتے ہوں تو ان پر شرعی حکم مرتب ہونے سے پہلے کسی ماہر نفسیات سے معائنہ ضروری ہے۔

صورت مسئولہ میں اگرسائل واقعی وسوسوں سے اس حد تک متاثر ہےکہ وسوسوں سے اس کی جان نہیں چھوٹتی، تواس کو چاہیے کہ کسی ماہر نفسیات سے اپنا معائنہ کرائے،معائنہ کرنے کے  بعداگر معلوم ہوجائےکہ یہ نفسیاتی مریض ہے،تو طلاق واقع نہ ہوگی۔     

 

عن ابی ھریرۃؓ قال:قال النبيﷺ: "إنّ اللہ تجاوز عن أمّتي ما وسوست بہ صدورھا مالم تعمل او تکلّم"(الصّحیح للبخاري، رقم الحدیث:2529 ،باب الخطاءوالنسیان في الطّلاق والعتاق ونحوہ، ج:1ص:343) 

(قوله وموسوس) بالكسر ولا يقال بالفتح ولكن موسوس له أو إليه أي تلقى إليه الوسوسة، وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس قال: يعني المغلوب في عقله۔ (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الجهاد، باب المرتد، مطلب ما يشك في أنه ردة لا يحكم بها، ج:4، ص:224)

علم أنه حلف ولم يدر بطلاق أو غيره لغا كما لو شك أطلق أم لا. ( الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب الطلاق باب صريح الطلاق، مطلب الانقلاب والاقتصار والاستناد والتبيين، ج:2، ص:492)


فتویٰ نمبر : 7082/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور