بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
شیعہ کے ہاتھوں بناہوا کھانا کھا کر روزہ رکھنا
سوال
ہم ایک چیک پوسٹ میں ڈیوٹی کے فرائض سر انجام دے رہے تھے، وہاں ہم دو ساتھی مسلمان تھے،باقی سب شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے تھے، کھانا پکانے والا ساتھی بھی شیعہ تھا، وہ مرغی خود ذبح کرکے کھانا تیار کرتاتھا، اگر ہم دوساتھی اس کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا نہ کھاتے، توانتشار کا خطرہ تھا، بلکہ ان سب کی طرف سے ہماری جان کو بھی خطرہ تھا، ایک دومرتبہ نہیں کھایا تو کافی حد تک ناراض ہوگئے تھے۔ اس لیے ہم اس کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا کھاکر رمضان کے مہینے میں روزے رکھتے تھے۔ دریافت طلب امور یہ ہیں کہ 1۔ کیا اہل تشیع کا ذبیحہ حلال ہے یانہیں؟ 2۔ کیا ہمارے روزے ادا ہوگئے ہیں یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اہل تشیع میں سے جن کے عقائد کفریہ حد تک پہنچے ہوں مثلاً: وہ قرآن مجید میں تحریف کے قائل ہوں یا حضرت علی کرم اللہ وجھہہ کو خدا مانتے ہوں یا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی صحابیت کا انکار کرتے ہوں یا حضرت جبریل علیہ السلام کے متعلق وحی پہنچانے میں غلطی کرنے کا عقیدہ رکھتے ہوں یا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا پر بہتان لگاتے ہوں، تو وہ اسلام سے خارج ہیں، لہذا ان کا ذبیحہ بھی حرام ہے۔ تاہم جن کے عقائد کفریہ حد تک نہ پہنچتے ہوں، انہیں کافر قرارنہیں دیا جاسکتا اوران کاذبیحہ بھی حلال ہوتاہے۔
صورتِ مسئولہ کے میں چونکہ اہل تشیع کے درمیان تمیز کرنا مشکل ہے، اس لیے ان کے ذبح کیے ہوئے جانور کے گوشت سے احتراز کرنا چاہیے۔ تاہم اگر ان کے ذبیحے کا گوشت کھا کر روزہ رکھا گیا ہو، تو اس سے روزہ پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن.(رد المحتار مع الدر المختار، كتاب الجهاد، باب المرتد، مطلب توبة اليأس دون ايمان اليأ س، ج:4، ص:237)
لا) تحل (ذبيحة) غير كتابي من (وثني ومجوسي ومرتد) وجني وجبري لو أبوه سنيا ولو أبوه جبريا حلت أشباه،لانه صار كمرتد.(الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الذبائح، ص:640)