بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
مبیع کی حوالگی میں ذمہ داری/ضمان کی منتقلی
سوال
میں ایک صاحب سے گھی منگواتا ہوں ، جب گھی مجھے ملتا ہے تو بعض مرتبہ لیکیج میں ضائع ہوجاتا ہے، جب بائع کو بتایا جاتا ہے کہ نقصان ہوگیا ہے تو وہ کہتے ہیں: "ہلکی پیکنگ میں بھیجنے میں نقصان ہوجائے تو ہماری کوئی ذمہ داری نہیں، البتہ آپ اچھی پیکنگ (جو کہ مہنگی پڑتی ہے) میں منگوائیں ،تو ہم نقصان کے ذمہ دار ہیں ۔" سوال یہ ہے کہ بائع بہر صورت ذمہ دار ہوگا یا صرف مہنگی پیکنگ کی صورت میں ہی مسئول ہوگا؟
جواب
شریعت مطہرہ کی روسے بائع(فروخت کنندہ) کی ذمہ داریوں میں سے یہ ہے کہ وہ مبیع کو مشتری (خریدار) کے حوالہ کرے،اور حوالگی کی جگہ اور راستے کے ضمان کے بارے میں خرید وفروخت کے وقت کے معاہدے کا اعتبار ہوگا۔ اور اگر معاہدہ کی تصریح نہ ہو تو پھر عرف کے مطابق کسی ایک پر ذمہ داری عائد ہوگی۔
صورت مسئولہ میں اگر عقد کے وقت یہ تصریح کی گئی ہو کہ بائع گھی کو اپنی دکان ،فیکٹری یا گودام وغیرہ میں حوالہ کرے گا،اور راستے کی ذمہ داری خریدار کی ہوگی، تو اس صورت میں اگر راستےمیں کوئی نقصان (لیکیج وغیرہ)آجائےتو خریدار اس کا ذمہ دار ہوگا ۔اور اگر عقد کے وقت یہ بات طے ہوئی ہو کہ بائع گھی کو خریدار کی جگہ پہنچانے کا پابند ہوگا،تو اس صورت میں راستے کی ذمہ داری اور خرچہ فروخت کنندہ(بائع) پر ہوگا۔چنانچہ اس صورت میں بائع ہی نقصان(لیکیج وغیرہ ) کا ذمہ دار ہوگا ،اوراس دوسری صورت میں بائع کا یہ شرط لگانا معتبر نہ ہوگا کہ" ہلکی پیکنگ کی صورت میں گھی کے نقصان کا وہ ذمہ دار نہیں ہوگا اور صرف مضبوط اور مہنگی پیکنگ کے نقصان پر ہی جواب دہ ہوگا"۔
اوراگرخریدوفروخت کے وقت کسی ایک پرراستے کی ذمہ داری کی تصریح نہ کی گئی ہو تو اس صورت میں عرف وعادت کے مطابق بائع یا خریدار میں سے کسی ایک پرذمہ داری عائد ہوگی ۔چناچہ ترسیل کےدوران گھی کے نقصان(لیکیج وغیرہ )کا بھی وہی ذمہ دار ہوگا۔
قال: "وكل ذلك يكره" لما ذكرنا، "ولا يفسد به البيع"؛ لأن الفساد في معنى خارج زائد لا في صلب العقد ولا في شرائط الصحة۔(الهدايه، بیع الفاسد،فصل فیما یکرہ،ج:3 ،ص:70 )
(قَوْلُهُ وَلَا بَيْعٌ بِشَرْطٍ) شُرُوعٌ فِي الْفَسَادِ الْوَاقِعِ فِي الْعَقْدِ بِسَبَبِ الشَّرْطِ «لِنَهْيِهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعٍ وَشَرْطٍ» ، لَكِنْ لَيْسَ كُلُّ شَرْطٍ يُفْسِدُ الْبَيْعَ نَهْرٌ. وَأَشَارَ بِقَوْلِهِ بِشَرْطٍ إلَى أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ كَوْنِهِ مُقَارِنًا لِلْعَقْدِ؛ لِأَنَّ الشَّرْطَ الْفَاسِدَ لَوْ الْتَحَقَ بَعْدَ الْعَقْدِ، قِيلَ يَلْتَحِقُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ، وَقِيلَ: لَا وَهُوَ الْأَصَحُّ كَمَا فِي جَامِعِ الْفُصُولَيْنِ۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،مطلب فی البیع بشرط فاسد،ج:5،ص:84)
أن التوكيل تفويض ما يملكه الموكل إلى غيرہ۔۔۔أن المطلوب من الوكيل بالخصومة الاهتداء ومن الوكيل بالقبض الأمانة۔(بدائع الصنائع،کتاب الوکالۃ،فصل فی بیان حکم التوکیل،ج:6،ص:24)
(مَادَّةُ 287) إذَا بِيعَ مَالٌ عَلَى أَنْ يُسَلَّمَ فِي مَحَلِّ كَذَا لَزِمَ تَسْلِيمُهُ فِي الْمَحَلِّ الْمَذْكُورِ (اُنْظُرْ الْمَادَّةَ 188) .
مِثَالُ ذَلِكَ أَنْ يَبِيعَ شَخْصٌ حِنْطَةً مِنْ مَزْرَعَةٍ لَهُ عَلَى أَنْ يُسَلِّمَهَا إلَى الْمُشْتَرِي فِي دَارِهِ فَيَجِبُ عَلَيْهِ تَسْلِيمُهَا إلَى الْمُشْتَرِي فِي دَارِهِ وَكَذَلِكَ إذَا شُرِطَ تَسْلِيمُ الْمَبِيعِ الَّذِي يَحْتَاجُ إلَى مَئُونَةٍ فِي نَقْلِهِ إلَى مَحَلٍّ مُعَيَّنٍ فَيَجِبُ تَسْلِيمُهُ هُنَاكَ وَإِنْ كَانَ يَصِحُّ الْبَيْعُ بِشَرْطِ تَسْلِيمِ الْمَبِيعِ فِي مَحَلٍّ مُعَيَّنٍ حَسَبَ هَذِهِ الْمَادَّةِ إلَّا أَنَّهُ لَا يَصِحُّ الْبَيْعُ بِشَرْطِ حَمْلِ الْمَبِيعِ وَنَقْلِهِ إلَى دَارِ الْمُشْتَرِي (اُنْظُرْ شَرْحَ الْمَادَّةِ 1890)
(هِنْدِيَّةٌ) فَفِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ قَدْ تَعَيَّنَ مَحَلُّ الْمَبِيعِ مَكَانًا لِلتَّسْلِيمِ فَاشْتِرَاطُ نَقْلِهِ إلَى دَارِ الْمُشْتَرِي بَعْدَ ذَلِكَ شَرْطٌ زَائِدٌ وَمُفْسِدٌ أَمَّا الْمَسْأَلَةُ الَّتِي ذَكَرَتْهَا، الْمَجَلَّةُ فَلَيْسَتْ عَلَى هَذَا الْوَجْهِ.(دررالحکام فی شرح مجلةالاحکام،الکتاب الاول البیوع،الباب الخامس،الفصل الثالث،مادۃ:287،اذا بیع مال علی ان یسلم فی محل کذا،ج:1،ص:270)
فإذا باع شخص حمل سفينة حطبا كل قنطار بعشرين قرشا فأجرة تسليم القنطار تلزم البائع إلا أن العمل في زماننا جار على أخذ الأجرة من المشتري حسب النظام المخصوص وكذلك أجرة إفراغ الحنطة في الأعدال ( الأكياس ) تعود على البائع وكذلك إذ اشترى ماء من السقاء بالقربة فصب الماء في إناء المشتري يعود على البائع.(دررالحکام فی شرح مجلةالأحکام،کتاب البیوع،المادۃ :289 ج:1،ص:272)
(الْمَادَّةُ 291) :مَا يُبَاعُ مَحْمُولًا عَلَى الْحَيَوَانِ كَالْحَطَبِ وَالْفَحْمِ تَكُونُ أُجْرَةُ نَقْلِهِ وَإِيصَالِهِ إلَى بَيْتِ الْمُشْتَرِي جَارِيَةً عَلَى حَسَبَ عُرْفِ الْبَلْدَةِ وَعَادَتِهَا۔(دررالحکام فی شرح مجلة الأحکام،کتاب البیوع،المادۃ :291 ج:1،ص:272