بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
معصیت کرنے کے بعد جرگہ یا کمیٹی والوں کےلیے تعزیری سزا نافذ کرنا
سوال
1۔ حکو مت وقت اور قاضی کے علاوہ کسی فرد یا جرگہ کو تعزیری سزا معصیت کرنے کے بعد نافذ کرنے کا حق ہے یا نہیں؟ الدر المختار کی عبارت سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کو یہ حق نہیں "(ويقيمه كل مسلم حال مباشرة المعصية) قنية (و) أما (بعده) ف (ليس ذلك لغير الحاكم) والزوج والمولى كما سيجيء.
2۔ آپ نے فتاوی عثمانیہ جلد 9 ص 165 میں نمبر 8 میں تحریر فرمایا ہے کہ " حدود امام کے ساتھ خاص ہیں جب کہ تعزیر ہر صاحب جاہ کےلیے جائز ہے،" اس میں ایک تو یہ عرض کرنا ہے کہ حوالے آپ نے بدائع الصنائع اور رد المحتار کا دیاہے حالانکہ ردالمحتار میں تو یہ عبارت ہے "وزاد بعض المتأخرين أن الحد مختص بالإمام والتعزير يفعله الزوج والمولى وكل من رأى أحدا يباشر المعصيةالخ" لیکن بدائع الصنائع میں آپ حضرات نے جس جگہ کا حوالہ دیا ہے اس بارے میں کوئی عبارت نہیں ۔
3۔ دوسرا آپ حضرات نے جلد 9 ص 179،اور ص180 پر دو مسئلوں کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جلا وطنی اور تعزیر بالمال کسی حد تک جائز ہے، حالانکہ آپ سے سوال جرگہ کے فیصلہ کے با رے میں ہوا ہے جو کہ نہ حکومت وقت ہے اور نہ ان کی طرف سے قاضی، جس سے ثابت ہو تا ہے کہ آپ کہ ہاں معصیت ہو جانے کے بعد بھی قاضی کے علاوہ لوگ تعزیری سزا جاری کر سکتے ہیں، تو اس بارے میں ذرا وضاحت فر مادیں کہ کیا جرگہ، مختلف یو نین کے بڑے اپنے کسی اصول کی خلا ف ورزی پر تعزیری سزا چاہے مالی ہو یا بدنی ہو یا جلا وطنی کی صورت میں ہو معصیت کے بعد جاری کرسکتے ہیں یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ تعزیر کا بنیادی مقصد جرائم پیشہ عناصر کی حوصلہ شکنی ہے اس لیے تعزیرات کو زواجر کہتے ہیں اسی بنیاد کے پیش نظر جن معاصی کے لیے شریعت میں باقاعدہ حد مقرر نہیں کی گئی ہے یا کسی شبہ یا فقدانِ شرائط کی وجہ سےحد نافذ نہ ہوسکے تو ان جرائم کی روک تام کے لیے سزا کو شریعت نے قاضی کی صوابدید پر چھوڑا ہےکہ معصیت کے بعد قاضی جو مناسب سزا ان کو دینا چاہے دے سکتا ہے، اسی طرح ہر اس شخص کو اقامت تعزیر کا حق حاصل ہے جس کو ولایت تادیب حاصل ہو مثلاً زوج، مولیٰ، باپ اور معلم کو تعزیر کا حق ہے اسی طرح كسی قوم یا علاقے کے ذمہ داران کو ان لوگوں کی تعزیر کا حق ہے جو ان کے ذیر آثر ہوں۔ علاوہ ازیں جب کسی بھی مسلمان کے سامنے معصیت کا ارتکاب ہورہا ہوتو اس کو حق تعزیر ہے۔
سوال میں الدر المختار کے حوالہ سے مذکورہ عبارت"(ويقيمه كل مسلم حال مباشرة المعصية) قنية (و) أما (بعده) ف (ليس ذلك لغير الحاكم) والزوج والمولى كما سيجيء. کا مطلب یہ ہے کہ معصیت کے بعد تعزیری سزا جاری کرنے کا حق یا تو حاکم کو حاصل ہے، کیونکہ اس کو ولایت عامہ حاصل ہے یا پھر زوج اور مولی کو، کیونکہ ان کو ولایت تادیب حاصل ہے، پھر دیگر عبارات سے یہ بات ثابت ہے کہ ولایت تادیب صرف زوج اور مولی تک محدود نہیں، بلکہ والد اور استاد کو بھی ولایت تادیب حاصل ہے۔ جیساکہ مجمع الأنہر میں ہے وللزوج أن يعزر زوجته لترك الزينة) إذا أرادها الزوج وكانت قادرة عليها (وترك الإجابة إذا دعاها إلى فراشه) ولم تكن حائضا، أو نفساء؛ لأن الإجابة واجبة عليها (وترك الصلاة) كما في الدرر وغيره لكن في التنوير لا على ترك الصلاة؛ لأن المنفعة لا تعود إليه بل إليها لكن الأب يعزر الابن لتركها، اسی طرح البحر الرائق میں ہے " ولو أمر غيره بضرب عبده حل للمأمور ضرب عبده بخلاف الحر قال رضي الله عنه فهذا تنصيص على عدم جواز ضرب ولد الآمر بأمره بخلاف المعلم لأن المأمور بضربه نيابة عن الأب لمصلحته والمعلم يضربه بحكم الملك بتمليك أبيه لمصلحة العلم" معلوم ہوا کہ جس کو بھی ولایت تادیب ہو تو اس کو ولایت تعزیر بھی حاصل ہے، تاہم یہ الگ بات ہے کہ تعزیر کو تعذیب نہ بنایاجائے۔
(2) فتاوی عثمانیہ جلد (9) صفحہ 165 پر بدائع الصنائع کا جو حوالہ دیاگیا ہےوہ مجموعی اعتبار سے ہے کہ یہ نو مسائل جو ذکر ہیں ان کو بدائع الصنائع اور رد المحتار کے متعلق صفحات سے لیاگیا جن میں سے بعض بدائع الصنائع میں، بعض رد المختار میں اور بعض دونوں میں موجود ہیں۔
(وللزوج أن يعزر زوجته لترك الزينة) إذا أرادها الزوج وكانت قادرة عليها (وترك الإجابة إذا دعاها إلى فراشه) ولم تكن حائضا، أو نفساء؛ لأن الإجابة واجبة عليها (وترك الصلاة) كما في الدرر وغيره لكن في التنوير لا على ترك الصلاة؛ لأن المنفعة لا تعود إليه بل إليها لكن الأب يعزر الابن لتركها.( مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، كتاب الحدود،فصل في التعزير،ج:1، ص: 609، 612)
)ويقيمه كل مسلم حال مباشرة المعصية) قنية (و) أما (بعده) ف (ليس ذلك لغير الحاكم) والزوج والمولى كما سيجيء. فرع: من عليه التعزير لو قال لرجل أقم علي التعزير ففعله ثم رفع للحاكم فإنه يحتسب به قنية، وأقره المصنف، ومثله في دعوى الخانية، لكن في الفتح ما يجب حقا للعبد لا يقيمه إلا الإمام لتوقفه على الدعوى إلا أن يحكما فيه فليحفظ. ( الدر المختار،كتاب الحدود، باب التعزير،ج: 4، ص: 65(
والتعزیر تأدیب دون الحد ... قلت: ويدل عليه أن الحد لا يليه إلا الإمام. ( رد المحتار،كتاب الحدود، باب التعزير،ج: 4، ص:15، 64)