بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
زکوۃ کی رقم سے کسی کو مکان بناکر دینا
سوال
ایک آدمی نے مجھے زکوۃ میں ایک پلاٹ دیا ہے لیکن میرے پاس مکان بنانے کے پیسے نہیں ایک دوسرا شخص مجھے کہتا ہے کہ میں زکوۃ کے پیسوں سے آپ کے اس پلاٹ پر آپ کے لیے مکان بنادوں گابشرطیکہ اس سے میری زکوۃ ادا ہوجائے تو کیا اس کا میرے لیے زکوۃ کے پیسوں سے مکان بنانے سے زکوۃ ادا ہوجائے گی یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ زکوۃ کی ادائیگی جس طرح نقد رقم سے جائز ہے اسی طرح کسی اور جنس مثلاً غذائی اجناس، کپڑے لباس وغیرہ سے یا مکان تعمیر کرکے مستحق زکو ۃ کو مالک بنانے سے بھی زکوۃ ادا ہو جاتی ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگرسائل مستحق زکوۃ ہو تو اس کے لیے زکوۃ کی رقم سے پلاٹ پر مکان بنا کر اس کو مالک بنا دینے سے زکوۃ دینے والے کی زکوۃ ادا ہو جائے گی۔
وأما الذي يرجع إلى المؤدي فمنها أن يكون مالا متقوما على الإطلاق سواء كان منصوصا عليه أو لا من جنس المال الذي وجبت فيه الزكاة أو من غير جنسه۔ (بدائع الصنائع، كتاب الزكاة، فصل شرائط ركن الزكاة، ج:2، ص:41)
ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة۔ (الدرالمختار، كتاب الزكاة، باب المصرف، ص:137)