بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
دکان کی ادھار بیع میں بائع کا کرایہ لینے کی شرط لگانا
سوال
زید نے عمرو کو ایک دکان فروخت کی۔ عمرو نے زید کو آدھی قیمت ادا کی اور باقی آدھی قیمت دو مہینے بعد ادا کرنے کا کہا۔ تو جواب میں زید نے کہا کہ ٹھیک ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اس دکان کا کرایہ میں لوں گا۔ تو کیا یہ بیع جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ خرید و فروخت کا معاملہ کرتے وقت ایسی شرط لگانا جائز نہیں جو مقتضائے عقد کے خلاف ہو اوراس میں بائع، مشتری یا مبیع میں سے کسی ایک کا فائدہ ہو، اس سے بیع فاسد ہو جاتی ہے۔ اور بیع فاسد کے عاقدین میں سے ہر ایک پرلازم ہے کہ وہ اس عقد کو ختم کرے۔
صورت مسئولہ کے مطابق بائع کا دو ماہ کا کرایہ لینے کی شرط لگانا ایسی شرط ہے جس میں بائع کے لیے نفع ہے، اس لیے یہ بیع فاسد ہے جو شرعاً جائز نہیں۔ نیز اس میں سود بھی ہے کیونکہ عمرو نے آدھی قیمت ادا کی ہے اور آدھی قیمت ذمے پر دَین ہے، اور اس دَین کے بدلے زید نے عمرو سے دو ماہ کا کرایہ لینے کی شرط لگائی ہے، لہذاسود کی شرط لگانے کی وجہ سے بھی یہ بیع جائز نہیں۔
وكل شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين أو للمعقود عليه وهو من أهل الاستحقاق يفسده كشرط أن لا يبيع المشتري العبد المبيع؛ لأن فيه زيادة عارية عن العوض فيؤدي إلى الربا، أو؛ لأنه يقع بسببه المنازعة فيعرى العقد عن مقصوده۔ (لهداية، كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، ج:3، ص:48)
(ومنها) شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة للبائع أو للمشتري أو للمبيع إن كان من بني آدم كالرقيق وليس بملائم للعقد ولا مما جرى به التعامل بين الناس نحو ما إذا باع دارا على أن يسكنها البائع شهرا ثم يسلمها إليه أو أرضا على أن يزرعها سنة أو دابة على أن يركبها شهرا أو ثوبا على أن يلبسه أسبوعا۔۔۔۔فالبيع في هذا كله فاسد؛ لأن زيادة منفعة مشروطة في البيع تكون ربا. (بدائع الصنائع، كتاب البيوع، فصل في شرائط الصحة في البيوع، ج:5، ص:169)