بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
مملوکہ باغ کے پھلوں کوذخیرہ کرنا
سوال
ہمارے ہاں انار وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں جن کو ہم اس کے موسم میں بیچتے بھی ہیں اور ان میں سے ایک مقدار ہم زمین میں گڑھا کھود کر محفوظ بھی کرتے ہیں ،جن کو ہم سردیوں کے موسم میں ضرورت کے وقت استعمال کرتے ہے اور سردیوں کے موسم میں ان کو فروخت بھی کرتے ہیں ،کیا یہ ذخیرہ اندوزی کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ کوئی شخص خوراک کی کسی ایسی چیز کو ذخیرہ کرے جس سے عام لوگوں کے حقوق متعلق ہوں اور ان کو ذخیرہ کرنے سے عام لوگوں کو تکلیف ہوتی ہو تو یہ عمل جائز نہیں ،لیکن اگر وہ چیز اس کی اپنی مملوکہ زمین کی پیداوار ہو تو اس کے ساتھ عام لوگوں کے حقوق متعلق نہ ہونے کی وجہ سے یہ عمل ناجائز نہیں ۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی شخص اپنی زمین سے پیدا ہونے والے انارکو ذخیرہ کرےتاکہ سردیوں کے موسم میں بوقت ضرورت استعمال کرے یا سردیوں کے موسم میں ان کو فروخت کرے تو یہ احتکار کے زمرے میں نہیں آتا اس لیے یہ عمل جائز ہے ۔
(و) كره (احتكار قوت البشر) كتبن وعنب ولوز (والبهائم) كتبن وقت (في بلد يضر بأهله) لحديث "الجالب مرزوق والمحتكر ملعون"...(ولا يكون محتكرا بحبس غلة أرضه)لأنه خالص حقه لم يتعلق به حق العامة، ألا ترى أن له أن لا يزرع فكذا له أن لا يبيع هداية قال والظاهر أن المراد أنه لا يأثم إثم المحتكر.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الحظر والاباحة، باب الاستبراء وغيره، فصك في البيع، ج:9، ص:573،572)
قال: "ومن احتكر غلة ضيعته أو ما جلبه من بلد آخر فليس بمحتكر" أما الأول فلأنه خالص حقه لم يتعلق به حق العامة؛ ألا ترى أن له أن لا يزرع فكذلك له أن لا يبيع.(الهداية، كتاب الكراهية، فصل في البيع، ج:4، ص:377)