بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
سودا ہوجانے کے بعد مارکیٹ ریٹ کم ہوجانے کی وجہ سے دکاندار کو کم پیسے دینا
سوال
میں نے ایک دکان سے سولر 522100 روپے میں خریدا اور رقم کی ادائیگی کے لیے اسے چیک دیا جو بینک بند ہونے کی وجہ سے کیش نہ ہوسکا، دکان دار نے سولر پیک کر کے ایک طرف رکھ لیا، اور کہا کہ آپ چیک کیش کروا کر اپنا سولر اٹھالیں۔ اس دوران میں نے مصروفیت کی وجہ سے چیک کیش نہیں کرایا اور اس پر دس دن گزر گئے، دس دنوں کے بعد میں نے اپنے الیکٹریشن کے ذریعے نقد رقم بھیجی تو اس وقت سولر کی قیمت سترہ ہزار کم ہوچکی تھی،چنانچہ بحث و مباحثہ کے بعد الیکٹریشن نے دکاندار کو اتنی رقم کم ادا کی۔ کیا ہمارا یہ فعل درست ہے؟
جواب
واضح رہے کہ خرید و فروخت کے وقت باہمی رضامندی سے جو قیمت طے ہوجائے اور خرید و فروخت کا معاملہ حتمی ہوجائے، تو خریدار وہی طے شدہ قیمت دینے کا پابند ہوتا ہے، بعد میں مارکیٹ ریٹ میں کمی یا زیادتی کا اعتبار نہیں ہوتا۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگر دکان دار نے معاملہ طے پاتے وقت سولرمتعین کر دیے تھے، تو بیع تام شمار ہو گی، اس لیے سائل پر وہ پوری قیمت لازم ہے جومعاملہ کرتے وقت قیمت طے ہوئی تھی ،مارکیٹ ریٹ کم ہونے کی وجہ سے دکاندار کو طے شدہ قیمت سے کم پیسے دینا جائز نہیں ہے۔البتہ اگر دکان داراپنی مرضی سے طے شدہ رقم سے کم لینے پر راضی ہوجائے، تو شرعا یہ جائزہے۔
"الثمن المسمى هو الثمن الذي يسميه ويعينه العاقدان وقت البيع بالتراضي، سواء كان مطابقا للقيمة الحقيقية أو ناقصا عنها أو زائدا عليها"۔(مجلة الأحكام العدلية، الكتاب الأول في البيوع، المقدمة في بيان الاصطلاحات الفقهية المتعلقة بالبيوع، ج:1، ص:33، المادة:153)