بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ذہنی مریض کی طلاق کا حکم


سوال

ایک شخص اپنے گھر میں والد اور بھائیوں سے لڑائی جھگڑے کرتا ہے، یہاں تک کہ ایک مرتبہ اپنے والد پر فائرنگ بھی کی ہے، اس شخص  کا بارہ سال کی عمر میں  Psychiatric ڈاکٹر سے معائنہ کروایا، لیکن اس سے افاقہ نہ ہوا  اور پھر 2020 میں اس کی حالت خراب ہونے کی وجہ سے اس کا معائنہ کروایا تو ڈاکٹر نے کہا کہ اس پر اٹیک  ہوا ہے اور دوسرے اٹیک کا انتظارہے ڈاکٹر نے اس کو دوائی دی، لیکن اس نے دوائی استعمال نہ کی، جبکہ 12 گھنٹے  بے ہوش رہتا، پھر ایک مرتبہ اپنی بیوی سے روٹی پکانے کا کہا  بیوی نے سستی کا اظہار کیا تو لڑائی تک بات پہنچ گئی جس پر بیوی اپنی  نانی کے گھر چلی گئی اس کے بعد اس شخص نے اپنے ماموں اور سسر کے سامنے اس بات کا اظہار کیا کہ میری بیوی مجھ پر سات مرتبہ طلاق ہے۔

 دوبارہ ڈاکٹر سے معائنہ کروایا گیا تو ڈاکٹر نے کہا یہ شدید  بیمار  ہے اس کو بطور علاج شاٹ بھی دیےاورڈاکٹر نے کہا کہ اس نے جو طلاق کے الفاظ اپنی بیوی کو کہے ہیں یہ اپنے ہوش وحواس میں نہیں کہے جس کی رپورٹ بھی سوال کے ساتھ جمع کردی گئی اب سوال  یہ ہے کہ ان الفاظ  کے کہنے سے طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟

ٓ

جواب

واضح  رہے کہ طلاق کے وقوع کےلیے طلاق دینے والے کا اہل ہونا شرط ہے کہ وہ عاقل اور بالغ ہو، چنانچہ اگر  کسی پر جنون کی کیفیت طاری ہوجائے جس کی وجہ سے اس کے طلاق دینے کی اہلیت  متاثر ہوجائے، تو طلاق واقع نہ ہوگی۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر مذکورہ شخص واقعی ذہنی مریض ہو اور Psychiatric  ڈاکٹر نے اس کے ذہنی مریض ہونے کی تصدیق کی ہو اور اس پر جنون کی ایسی کیفیت طاری ہوتی ہو جس سے اس کو اپنے افعال واقوال کا احساس  نہ  ہوتا ہو تو ایسی حالت میں وہ طلاق کے جو الفاظ کہے اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا اور طلاق واقع نہ ہوگی اور وہ عورت اس کی بیوی رہے گی۔

 

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «كل طلاق جائز، ‌إلا ‌طلاق ‌المعتوه المغلوب على عقله» ( سنن الترمذي، ‌‌باب ما جاء في طلاق المعتوه، رقم الحديث: 1191)

قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله. ‌الثالث ‌من ‌توسط ‌بين ‌المرتبتين ‌بحيث ‌لم ‌يصر ‌كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. ( رد المحتار، كتاب الطلاق، مطلب في تعريف السكران وحكمه، ج: 3، ص: 239)


فتویٰ نمبر : 7051/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور