بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
قرآن کا واسطہ دے کر معافی کا مطالبہ کرنا
سوال
اگر کسی شخص نے سنگین جرم کیا ہو، تو کیااس کی معافی ممکن ہے یا نہیں؟ نیز معافی کے لیے مظلوم کے سامنے قرآن کو واسطہ بنا کر کہنا کہ اس قرآن کی خاطر جرم کرنے والے کو معاف کرو، تو کیا یہ درست ہے؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کسی شخص سے سنگین جرم جیسے زنا، چوری، شراب نوشی وغیرہ کا ارتکاب ہوجائے تو سب سے پہلے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالی کی طرف رجوع کرے، فوراًاس گناہ کو ترک کر دے، اپنے کیے پر ندامت کا اظہار کرے اور آئندہ اس گناہ کے نہ کرنے کا پختہ عزم کرے،جب بندہ توبہ میں ان امور کا لحاظ رکھے تواللہ تعالی اس کا توبہ قبول فرماتا ہےاور اس کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ نیزاگر کسی انسان کو تکلیف پہنچائی ہے تو اس سے معافی طلب کرے، بندے کا حق اس کے معاف کیے بغیر معاف نہیں ہوسکتا، حقوق العباد سے متعلق گناہوں سے توبہ کی تکمیل کے لیے یہ ضروری ہے۔ نیز معافی کے لیے مظلوم کے سامنے قرآن کو واسطہ بنا کر کہنا کہ "اس قرآن کی خاطر جرم کرنے والے کو معاف کرو" اگر قرآن کا واسطہ دینے کا مقصد اس کی تعظیم کرنا ہے تو یہ ایک نیک عمل ہے، بشرطیکہ اس کے ذریعے مظلوم پر دباؤ نہ ڈالا جائے۔
قال الله تعالى: ﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا (68) يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا (69) إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا (70)﴾ (الفرقان:68،69،70)
وأيضا: ﴿وَإِنْ تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا وَتَغْفِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ﴾ (التغابن:14)
﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا﴾ أخرجه ابن مردويه عن ابن عباس قال: «قال معاذ بن جبل: يا رسول الله ما التوبة النصوح؟ قال: أن يندم العبد على الذنب الذي أصاب فيعتذر إلى الله تعالى ثم لا يعود إليه كما لا يعود اللبن إلى الضرع»۔۔۔۔۔وقال الإمام النووي: التوبة ما استجمعت ثلاثة أمور: أن يقلع عن المعصية وأن يندم على فعلها وأن يعزم عزما جازما على أن لا يعود إلى مثلها أبدا فإن كانت تتعلق بآدمي لزم رد الظلامة إلى صاحبها أو وارثه أو تحصيل البراءة منه، وركنها الأعظم الندم۔ (تفسيرالألوسي، سورة التحريم:66، ج:14، ص:353)
واعلم أن الذنوب على ثلاثة أوجه الأول فيما بين العبد وبين الله تعالى كالزنى واللواطة والغيبة والبهتان... والثاني ذنب فيما بينه وبين أعمال الله وهو أن يترك الصلاة والصوم والزكاة والحج...والثالث فيما بينه وبين عباد الله وهو أن يغصب أموالهم أو يضربهم أو يشتمهم أو يقتلهم فإن التوبة لا تكفيه إلا أن يرضى عنه خصمه أو يجتهد في الأعمال الصالحة حتى يوفق الله بينهما يوم القيامة۔ (تفسير روح البيان، سورة البقرة:3، ج:1، ص:286)