بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
ڈارون (DARWIN)کےنظریہ کوحکایتًا لکھنایابیان کرنا
سوال
اگرکوئی کسی امتحان کےجوابات دیتے وقت یہ لکھےکہ انسان چنپازی نامی جانور سےبنا ہےاور یہ لکھےکہ انسانی ڈی این اے(DNA)98فیصدچنپازی جیساہےاورجدیدانسان چنپازی ہی کی نسل ہے ،جبکہ یہ معلومات صرف امتحان کی حد تک ہو اور یہ عقیدہ بالکل نہ ہوتوکیااس سےکوئی کافربنتا ہے یا نہیں؟
جواب
رسول اللہ ﷺنےحضرات صحابہ کرام کو ابتدائے اسلام میں یہود و نصاری کی کتابیں پڑھنےسےمنع فرمایاتھالیکن جب ان کاایمان وعقیدہ پختہ ہوگیا،توپھرآپ ﷺنےان کواجازت دےدی،اس سےمعلوم ہوتاہےکہ اگرغلط خیالات ونظریات کی کتابیں پڑھنےسےعقیدہ ونظریہ کونقصان پہنچنےکا اندیشہ ہو،توپھرایسی کتابیں پڑھنا شرعًاجائزنہیں،ہاں اگرصحیح عقائدپرایمان پختہ ہواورتردیدکی غرض سےغلط نظریات کی کتاب پڑھی جائے ،یامحض معلومات کی غرض سےپڑھی جائےتوازروئےشریعت اس کی گنجائش ہے۔یہی حکم ڈارون کےنظریہ"نظریہ ارتقاء"(Theory of evolution)کاہے،جس کےمطابق انسان چنپازی کی نسل سےہےجوکہ بندرکی ایک قسم ہے،جبکہ یہ نظریہ نصوصِ قطعیہ کےخلاف ہے؛کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالی نےحضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کا تذکرہ صاف الفاظ میں کیا ہے،اور یہ کہ انسان انہی کی نسل سے ہیں۔لہٰذا ڈارون کا نظریہ غلط اورخلافِ نصوص ہونےکی وجہ سےاس پر یقین رکھنا جائز نہیں۔تاہم معلومات کی حد تک اس کو پڑھنےکی گنجائش ہے،بشرطیکہ اس سےعقیدہ متأثر نہ ہو۔
صورت مسئولہ کےمطابق اگرکوئی امتحان میں کامیاب ہونےکی خاطراس قسم کی معلومات کو بطورحکایت لکھے،لیکن وہ اس نظریہ کو تسلیم نہ کرتا ہو،اور نہ یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ انسان بندر کی نسل سے چلاہے۔تو محض اس قسم کی باتیں لکھنےاورحکایتًا بیان کرنےسےکوئی کافرنہیں بنتا۔
قال الله تعالى:﴿وَلَقَدْخَلَقْنَاالْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ(12)ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قرَارٍمَكِينٍ(13)ثُمَّ خَلَقْنَاالنُّطْفَةَعَلَقَةًفَخَلَقْنَاالْعَلَقَةَ مُضْغَةًفَخَلَقْنَاالْمُضْغَةَعِظَامًافَكَسَوْنَاالْعِظَامَ لَحْمًاثُمَّ أَنْشَأْنَاهُ خَلْقًاآخَرَفَتبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ(14)﴾(سورةالمؤمنون:14/13/12)
عن زيدبن أسلم قال:بلغني أنّ رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم قال:«لاتسألواأهل الكتاب عن شيءٍ،فإنّهم لن يهدوكم،وقدأضلّواأنفسهم»قال:قلنا:يارسول اللَّه،أفنحدّث عن بني إسرائيل؟قال:«حدّثواولاحرج»۔(مصنف عبدالرزاق،مسألة أهل الكتاب،ج:6،ص:110،حدیث رقم:10158)
عن عطاءبن يسارقال:كانت اليهود يحدّثون أصحاب النّبيّ صلى الله عليه وسلم فيسيخون كأنّهم يتعجّبون قال:فقال رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم:"لاتصدّقوهم،ولاتكذّبوهم،وقولوا:آمنّا بالّذي أنزل إلينا،وأنزل إليكم،و إلٰهناوإلٰهكم واحد،و نحن له مسلمون"۔(مصنف عبدالرزاق حدیث رقم:10161)
فلايجوزإمساك تلك الكتب والنظر فيها كي لاتحدث الشكوك ولايتمكن الوهن في العقائد۔(الفتاوی الهندية،کتاب الکرهية،ج:5،ص:434)