بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
حالت کفر میں محار م سے نکاح کے بعد قبول اسلام
سوال
کچھ دنوں پہلے میں نے اسلام قبول کیا لیکن میں نے حالت کفر میں محارم میں سے کسی محرم سے نکاح کیا تھااور جس کے ساتھ کفر کی حالت میں نکاح کیا تھا اس نے بھی یعنی میری بیوی نے بھی اسلام قبول کیا ہے تو کیا اسلام کے بعد ہمارا نکاح قائم رہےگا یا تفریق کی جائے گی؟
جواب
اگر کسی شخص نے حالت کفر میں کسی عورت سے نکاح کیاہو،اور پھر دونوں اسلام قبول کرلیں،تواگر ان کو نکاح پر برقرار رکھنااسلام میں جائز ہو تو بغیر تجدید نکاح کےبدستور نکاح بر قرار رہےگا ، اور اگر وہ نکاح اسلام میں حرام ہو،تو زوجین میں تفریق کی جائے گی۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل نے حالت کفر میں محرم سے نکاح کیاتھااور پھر میاں بیوی دونوں نے اسلام قبول کیا، تو اب ان دونوں میں تفریق کی جائے گی، کیونکہ محرم کے ساتھ جس طرح ابتداءً نکاح جائز نہیں اسی طرح اس کو نکاح میں رکھنا بھی جائز نہیں۔
"أما المحرمات بالنسب ما نص اللہ تعالی في قوله:[حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ أُمَّهَٰتُكُمۡ۔۔۔] الآیۃ۔ (الفتاوی قاضیخان، کتاب النکاح، باب في المحرمات ،ج:1،ص:314)
"(وَلَوْ كانت مُحَرَّمَةً فُرِّقَ بَيْنَهُمَا ) أَيْ لو كانت مَنْكُوحَةُ الْكَافِرِ مَحْرَمًا له أَيْ لِلزَّوْجِ بِأَنْ كانت أُمَّهُ أو أُخْتَهُ فَأَسْلَمَ أَحَدُهُمَا أو كِلَاهُمَا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا".(تبيین الحقائق،کتاب النکاح، باب نکاح الکافر،ج:2 ،ص:182)