بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
واجب مقدار سےزیادہ زکوۃ کو اگلے سال کی زکوۃ شمار کرنا
سوال
اگر کوئی شخص اپنی ملکیت میں موجود مال کا حساب لگا کر زکوۃ ادا كردےلیکن بعد میں اسے پتہ چلے کہ اس سے حساب لگاتے وقت غلطی ہوئی ہے اور اس نے اپنی ملکیت میں موجودہ مال سے زیادہ زکوۃ ادا کی ہے۔ تو کیا اس زائد رقم کو آئندہ سال کی زکوۃ میں شمار کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟
جواب
اگر کوئی شخص زکوۃ ادا کرتے وقت واجب مقدار سے زیادہ زکوۃ ادا کرے ، تو اس زائد رقم کو آئندہ سال کے حساب میں شمار کیاجاسکتا ہے،کیونکہ سال گزرنے سے پہلے زکوۃ کی ادائیگی درست ہے ۔اس لیے زکوۃ کی زائد رقم کو آئندہ سال کی زکوۃ میں حساب کرنا جائز ہے ۔
لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی شخص اپنی ملکیت میں موجود مال کا حساب لگاتے وقت غلطی سے زیادہ زکوۃ ادا کرے تو اس زائد مال کو اگلے سال کی زکوۃ میں شمار کر سکتا ہے۔
وفي الولوالجية: لو كان عنده أربعمائة درهم فأدى زكاة خمسمائة ظانا أنها كذلك كان له أن يحسب الزيادة للسنة الثانية.(رد المحتار علي الدر المختار، كتاب الزكوة، زكوة الغنم، ج:3، ص:221)
ويجوز التعجيل لأكثر من سنة لوجود السبب كذا في الهداية. ولو عجل زكاة ألفين، وله ألف فقال إن أصبت ألفا أخرى قبل الحول فهي عنهما، وإلا فهي عن هذه الألف في السنة الثانية أجزأه رجل له أربعمائة درهم فظن أن عنده خمسمائة فأدى زكاة خمسمائة ثم علم فله أن يحسب الزيادة للسنة الثانية كذا في محيط السرخسي.(الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة، الباب الثاني في صدقة السوائم، ج:1، ص:176)