بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
قسطوں پر خریداری میں زیادہ قیمت مقررکرنا
سوال
میں ایک دکاندار سے گاڑی خریدنا چاہتا ہوں دکاندار سے میں نے کہا کہ مجھے گاڑی خریدنی ہے لیکن میں آپ کو 5 ماہ بعد پیسے دونگا دکاندار کہتا ہے ادھار پر تو نہیں دے سکتا ،البتہ اس طرح کرلینگے کہ آپ کو میں گاڑی دونگا اور ماہانہ مجھے قسطوار متعین رقم دو گے لیکن بائع گاڑی کی نقد قیمت دینے کے بجائے قسطوار خریدنے پر زیادہ رقم کا مطالبہ کرتا ہےتوپوچھنا یہ ہے کہ کیا قسطوار خرید وفروخت کرنا درست ہے یا نہیں ؟
جواب
شريعت مطہرہ کی رو سے جس طرح نقد خرید و فروخت جائز ہے اسی طرح ادھار اور قسطوار خریدوفروخت بھی جائز ہے، نیز نقد کے مقابلے میں ادھار یا قسطوار کی قیمت زیادہ رکھنا بھی جائز ہے۔ البتہ ادھار یا قسطوار کی صورت میں ادائیگی کی مدت اور قیمت کی تعیین ضروری ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق گاڑی کو قسطوار زیادہ قیمت پر خریدناجائز ہے، تاہم یہ ضروری ہے کہ پہلے سے اقساط کی ادائیگی کی تاریخیں طے کرلی جائیں اور ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ عائد نہ کیا جائے، ورنہ وہ سود کے حکم میں داخل ہوگا۔
قال: "ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل إذا كان الأجل معلوما" لإطلاق قوله تعالى: {وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا}[البقرة:275] ۔(الهداية، كتاب البيوع، ج:3، ص:24)
"البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح۔۔۔يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتأجيل والتقسيط"۔(شرح مجلة الأحکام العدلیة لسلیم رستم باز اللبناني، رقم المادة:246،245، ص:125)