بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/10/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

دو مہینے اور کچھ دنوں کے بعد حمل کا ضائع ہوجانا


سوال

اگر کسی حاملہ خاتون کا حمل تقریباً دو مہینے اور کچھ دنوں کے بعد ضائع ہوجائے، تو نفاس کا کیا حکم ہے؟

جواب

جب کسی حاملہ خاتون کا حمل ضائع ہوجائے تو اگر ضائع شدہ حمل کے اعضا ہاتھ، پاؤں، کان اور ناک وغیرہ ظاہر ہوچکے ہوں تو اس کے بعد آنے والا خون نفاس شمار ہوگا اور اگر اعضا ظاہر نہ ہوچکے ہوں، تو پھراگر خون تین دن تک جاری رہے یا اسقاط حمل کے بعد طہر کا مل یعنی پندرہ (15) دن کے بعد خون آجائے اور تین دن سے تجاوز کرجائے، تو یہ خون حیض شمار ہوگا۔ تاہم اگر خون تین دن سے کم جاری رہے یا اسقاط حمل کے بعد طہر کا مل یعنی پندرہ (15) دن کے گزرنے سے پہلے خون آجائے، تو دونوں صورتوں میں یہ خاتون مستحاضہ شمار ہوگی، چنانچہ ان ایام کی نماز اور روزہ اس کے ذمہ لازم ہوگا۔

 

(وسقط) مثلث السين: أي ‌مسقوط (‌ظهر بعض خلقه كيد أو رجل) أو أصبع أو ظفر أو شعر، ولا يستبين خلقه إلا بعد مائة وعشرين يوما(ولد) حكما (فتصير) المرأة (به نفساء والامة أم ولد ويحنث به) في تعليقه وتنقضي به العدة، فإن لم يظهر له شئ فليس بشئ، والمرئي حيض إن دام ثلاثا وتقدمه طهر تام وإلا استحاضة.(الدر المختار شرح تنوير الابصار وجامع البحار،كتاب الطهارة، باب الحيض، ص: 45)


فتویٰ نمبر : 10223/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور