بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

انعام كا نام دے کر کسی کو زکوۃ کی رقم دینا


سوال

ہمارے مدرسے میں ختم قرآن کی تقریب تھی، اس میں ایک طالب علم نےنعت پڑھی جس پر لوگ اسے انعام دینے لگے، میرے پاس زکوۃ کے پیسے تھے، میں نے زکوۃ کی نیت سے اس طالب علم کو پانچ ہزار روپے دیے، اور اس سے کہا کہ یہ تیرا انعام ہے، تو کیا اس طرح انعام کا نام دے کر کسی کو زکوۃ کی رقم دینے سے زکوۃ ادا ہوجائے گی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ زکوۃ ادا کرنے میں زکوۃ دینے والے کی نیت معتبر ہوتی ہے۔ لہذا اگر زکوۃ دینے والا زکوۃ کی نیت سے رقم دےتو اس کی زکوۃ ادا ہوجائے گی چاہے زبان سے اُسے جو بھی نام دیا ہوبشرط یہ کہ جس کو زکوۃ دی جا رہی ہو مستحق زکوۃ ہو۔

صورت مسئولہ کے مطابق مذکورہ طالب علم اگر زکوۃ کا مستحق تھا تو انعام کا نام دے  کراس کوزکوۃ کے پیسے دینے سے زکوۃ ادا ہوگئی ہے۔

الأصح ‌أن ‌من ‌أعطى مسكينا دراهم وسماها هبة أو قرضا ونوى الزكاة فإنها تجزيه لأن العبرة لنية الدافع لا لعلم المدفوع إليه۔ (مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، كتاب الزكاة، شرط صحة أداء الزكوة، ج:1، ص:196)

‌لأن ‌العبرة ‌فيه ‌للقلب دون اللسان، وقال عين الأئمة الكرابيسي لا يجزيه، وقال يوسف الترجماني يجزيه إذا تأول القرض بالزكاة قال رضي الله عنه، وهذا أحسن الأجوبة والأصح رواية أنه يجزيه؛ لأن العبرة لنية الدافع لا لعلم المدفوع إليه۔ (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، كتاب الزكاة، شرط صحة أداء الزكوة، ج:1، ص:258)


فتویٰ نمبر : 10221/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور