بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

طلاق کو کسی شرط سے معلق کرنا اور طلاقوں سے بچنے کا طریقہ


سوال

ایک شخص نےاپنی والدہ  کے ساتھ گفتگو کے دوران غصہ میں آکر یہ کہا کہ آپ کے ہاتھ سے دی ہوئی کوئی چیز نہیں کھاؤں گا اگر کھا لیا تو میری بیوی کو طلاق،اسی طرح دوسرے موقعے پر  والدہ سے کہا کہ محلے کے متعین گھروں میں جاکر کچھ نہیں کھاؤں گا اگر کھا لیا تو میری بیوی کو طلاق،نیز ایک اور موقعے پر والدہ سے کہا کہ اس گائے کا دودھ نہیں پیوں گا اگر پیا تو میری بیوی کو طلاق ،چنانچہ اس کے اس طرح کہنے کے بعد والدہ نے اس گائے کو فروخت کیا اور اس کی جگہ دوسری گائے لے لی جس کا دودھ اب وہ استعمال کر رہا ہے۔شریعت مطہرہ  میں مسئلہ کی وضاحت کریں۔ تیسری صورت میں متعین گائے کو فروخت کر کے اس کی جگہ دوسری گائے خرید ی گئی تو اس کا دودھ پینے سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں اور طلاقوں سے بچنے اور رشتہ داری کا تقدس باقی رکھنے کے لیے مناسب صورت کی نشاندہی فرمائیں؟  

جواب

واضح رہے  کہ طلاق کو اگر کسی شرط کے ساتھ معلق کیا جائے تو شرط کے پائے جانے کی صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی۔

صورت مسؤلہ کے مطابق جس شخص نے  ایک طلاق کو ماں کے ہاتھ سے دی ہوئی چیز کھانے پر معلق کیا ہے تو اگر وہ   ماں کی ہاتھ سے کوئی چیز کھائے تو اس کی بیوی کو ایک طلاق رجعی واقع ہوگی، ا سی طرح  اگر محلے کےمتعین گھرو ں میں جاکر کچھ کھانے  پر بھی ایک طلاق معلق کیا ہو تو وہاں جاکر کچھ کھانے  سے بھی ا س کی بیوی کو ایک طلاق رجعی واقع ہوگی، ایسے ہی اگر  متعین گائے کا دودھ پینے پرایک طلاق  معلق کیا ہو تو اس متعین گائے کا دودھ پینے سے اس کی بیوی کو ایک طلاق رجعی واقع ہوگی۔ اوراگروہ معلق شدہ  کاموں میں سے کوئی ایک کام کرے اور پھر عدت کے اندر اندر دوسرا اور تیسرا کام بھی کرے تو اس کی بیوی کو تین طلاقیں واقع ہوں گی، لیکن اگر ایک کام کرے پھر عدت کے اندر دوسرا اور تیسرا کام نہ کرے اور رجوع بھی نہ کرے اور عدت  گزر جائے تو بیوی بائنہ ہو جائے گی لہذا اگر اس کے بعد دوسرا اور تیسرا کام  کرے تو محل نہ ہونے کی وجہ سے اس کی بیوی  پر دوسری اور تیسری طلاق واقع نہیں ہوگی، اس کے بعد باہمی رضامندی سے تجدید نکاح کر کے ایک ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔

 

وإذا ‌أضافه ‌إلى ‌الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.(الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الباب الرابع فى الطلاق بشرط،ج:1، ص420)

(‌وتنحل) ‌اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا.  (ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الطلاق، باب التعليق، ج:3ِ، ص:355)

حيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها.(رد المحتار علي الدر المختار، كتاب الطلاق، باب التعليق، ج:3، ص:355)


فتویٰ نمبر : 7043/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور