بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مدرسہ میں طلباء سے کھلونے ضبط کرنا


سوال

اگر طلبا مدرسہ میں سبق کے دوران کھلونے سے کھیلتے ہوں اور استاد ان سے کھلونے ضبط کر لے، کئی دن گزرنے کے بعد استاد کو یاد بھی نہ ہو کہ وہ کن کن بچوں کے ہیں، تو ان کھلونوں کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے تعزیری سزا کا حق حاکم کے علاوہ شوہر، ولی، والد، استاد اور ہر صاحبِ جاہ کو حاصل ہے، پھر موجودہ حالات کے تناظر میں فقہاے کرام کے نزدیک ضرورت کی وجہ سے مالی سرزنش کی گنجائش موجود ہے، اس وجہ سے اگر کسی ادارے کےضوابط و قوانین میں مخصوص آلات پر پابندی ہوتو خلاف ورزی کی صورت میں ادارے کا نگران عارضی طور پر بھی ان آلات کو ضبط کر سکتا ہے، اور مستقلاً بھی ضبط کر سکتا ہے۔ مستقلاً ضبط کرنے کے بعد ان آلات یا ان کی قیمت کو مفادِعامہ میں استعمال کر نا بھی جائز ہے اور زجر کے طور پر ان آلات کو ضائع کرنے کی بھی گنجائش   ہے۔

صورتِ مسئولہ میں اگر کھلونوں کے مالکان معلوم ہو سکیں تو بہتر یہ ہے کہ بچوں کے باز آنے کے بعدان کو کھلونے واپس کیے جائیں، اور اگر مالکان معلوم نہ ہو سکیں  یا بچوں کے باز  نہ آنے کی وجہ سے اشیاء کو مستقلاً ضبط کیا گیا ہوتو ان کو توڑ کر ضائع کرنا یا بیچ کر مفادِ عامہ میں استعمال کرنا جائز ہے، تاہم مدرسہ کے نگران کے لیے ان کو اپنےاستعمال میں لانا یا مدرسہ کی ضرورتوں میں استعمال کرنا درست نہیں۔

 

وزاد بعض المتأخرين أن الحد مختص بالإمام والتعزير يفعله الزوج والمولى وكل من رأى أحدا يباشر المعصية.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الحدود، مطلب في التعزير بالمال ج:6،ص:106)

وفي الخلاصة سمعت عن ثقة أن التعزير بأخذ المال إن رأى القاضي ذلك أو الوالي جاز ومن جملة ذلك رجل لا يحضر الجماعة يجوز تعزيره بأخذ المال.(البحر الرائق، کتاب الحدود، باب حد القذف، فصل فی التعزیر،ج:3،ص:68)

وقد هم الشارع بتحريق دور من يتخلف عن صلاة الجماعة، وهذا أصل في العقوبة في المال إذا رأى ذلك.(عمدة القاري، باب هل تكسر الدنان التي فيها الخمر،ج:9،ص:273)

وفيه عن البزازية: وقيل يجوز، ومعناه أن يمسكه مدة لينزجر ثم يعيده له، فإن أيس من توبته صرفه إلى ما يرى.(الدر المختار على صدر رد المختار، كتاب الحدود، باب التعزور، ج:6،ص:98)


فتویٰ نمبر : 6025/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور