بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
مہتمم کا مدرسہ میں رہائش اختیار کرنا اور دکان کھولنا
سوال
بنات کا ایک مدرسہ ہے گاؤں سے الگ ہے اس میں چوری ڈاکہ کا خطرہ زیادہ ہے پہلے بھی اس مدرسہ سے چوری ہوئی ہے اگر اس مدرسہ کا مہتمم اس میں رہنا چاہے وہ اپنے اہل و عیال اس مدرسے میں لائے تو اس کی اجازت ہے یا نہیں ؟مدرسہ میں رہائشی طالبات نہیں ہیں تقریباً 12 بجے چھٹی ہوتی ہے اسی طرح مہتمم اور اس کے گھر والوں کیلئے اس مدرسہ میں دکان کھولنے کی گنجائش ہے یا نہیں یہ دکان اور گھر کا کرایہ دیں گے یا نہیں اور رہنے کی گنجائش ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کسی مدرسہ میں چوری ڈاکہ کا خطرہ ہو تو مہتمم کی ذمہ داری ہے کہ وہ مدرسہ کے اموال کی حفاظت کی ہر ممکن کوشش کرے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر مدرسہ میں چوری ڈاکہ کا خطرہ ہو اور مہتمم کا مدرسہ میں رہائش اختیار کرنا مدرسے کے مفاد میں ہو تو مجلس شوری یا انتظامی کمیٹی کی اجازت سے مدرسہ میں رہائش اختیار کر سکتا ہے اور ایسی صورت میں رہائش کا کرایہ مدرسہ میں جمع کرنے کی ضرورت نہیں ،البتہ مدرسہ میں دکان کا منافع اگر مہتمم کی ذاتی ملکیت ہو اور انتظامی کمیٹی نے دکان کھولنے کی اجازت دی ہو تو اس صورت میں مہتمم اس دکان کا مناسب و معروف کرایہ مدرسہ میں جمع کرنے کا پابند ہو۔
قال: إذا أراد القيم أن يبني فيها قرية ليسكن أهلها وحفاظها ويحرز فيها الغلة لحاجته إلى ذلك كان له أن يفعل ذلك، لأن هذا من جملة مصالح الوقف۔(المحیط البرھانی،کتاب الوقف،ج:6ص:137)
واعلم أن إجارة الوقف لا تجوز إلا بأجرة المثل أو أكثر فلو أجر الناظر بدون أجرة المثل لا تصح الإجارة ويلزم المستأجر تمام أجر المثل.(البحرالرائق،کتاب الإجارة،ج:7ص:299)