بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

کسی غیر مسلم کا مسلمان میت کو غسل دینا


سوال

میں پرتگال میں جاب کرتا ہوں وہاں پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے ہاں جب  فوتگی  ہوجائے تو وہاں کمیٹی والے حضرات  آتے ہیں جو حکومت کی طرف سے بنائی گئی ہے اور میت کو لے جاکر غسل  اور  کفن دے کر ورثاء کوحوالہ کرتے ہیں اور پھر مسلمان ان کا جناز ہ پڑھاکر دفن کرتے ہیں،اس کمیٹی میں سارے غیر مسلم ہوتے ہیں میرا سوال یہ ہے کہ کیا غیر مسلم کے لیے مسلمان کو غسل دینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

مسلمان شخص کی میت کو غسل دینا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے، لہذا اگر مرد فوت ہوجائےتومسلمان مردوں کے ہوتے ہوئے، کسی کافر شخص کا مسلمان مرد کی میت کو غسل دینا مکروہ ہے ، البتہ اگر مسلمان  کو غسل دینے کے لیے مسلمان  موجود نہ ہوں، تو اس صورت میں کافر  غسل کا طریقہ معلوم کر کے مسلمان  میت کو غسل دے تو اس کی گنجائش ہے۔اسی طرح اگر عورت فوت ہوجائے تو مسلمان عورتوں  کی ذمہ داری ہے کہ اس کوغسل دیں،ان کی عدم موجودگی میں غیرمسلم عورت غسل کا طریقہ سیکھ کر میت کو غسل دے سکتی ہے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق پہلے تو مسلمانوں کو چاہیئے کہ خودمیت کو غسل وکفن دیا کریں تاہم اگر کمیٹی کوحوالہ کرنےکے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو تو کمیٹی میں اگر مسلمان موجود ہوں تو ان کو چاہیئے کہ مسلمان میت کو غسل دیں کیونکہ مسلمانوں کی موجودگی میں غیر مسلم کا مسلمان میت کوغسل دینا مکروہ ہے،البتہ  مسلمانوں کی عدم موجودگی میں کمیٹی میں موجود غیر مسلم اگرغسل دیں تو اس کی گنجائش ہے البتہ اگرمسلمان عورت فوت ہوجائے تواگر یہ یقین ہوکمیٹی میں عورتیں اس کوغسل دیں گی تو پھر کمیٹی کے سپرد کرسکتے ہیں لیکن اگر کمیٹی میں مردغسل دیتے ہوں تو پھر مسلمان عورت کی میت کو ان کے حوالہ نہ کیا جائے ۔

 

أما الرجل فنقول: إذا مات رجل في سفر فإن كان معه رجال يغسله الرجل، وإن كان معه نساء لا رجل فيهن، فإن كان فيهن امرأته غسلته...ولو لم يكن فيهن امرأته ولكن معهن رجل كافر علمنه غسل الميت ويخلين بينهما حتى يغسله...وأما المرأة فنقول: إذا ماتت امرأة في سفر فإن كان معها نساء غسلنها وليس لزوجها أن يغسلها... وإن لم يكن هناك نساء مسلمات ومعهم امرأة كافرة علموها الغسل ويخلون بينهما حتى تغسلها وتكفنها، ثم يصلي عليها الرجال ويدفنوها لما ذكرنا وإن لم يكن معهم نساء لا مسلمة ولا كافرة، فإن كان معهم صبي لم يبلغ حد الشهوة وأطاق الغسل علموه الغسل فيغسلها ويكفنها لما بينا،وإن لم يكن معهم ذلك فإنها لا تغسل، ولكنها تيمم لما ذكرنا غير أن الميمم لها إن كان محرما لها ييممها بغير خرقة، وإن لم يكن محرما لها فمع الخرقة يلفها على كفه.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،فصل بيان الكلام فيمن يغسل،ج:1،ص:304)

ولو مات الرجل فی السفر و معه نساء و رجل کافر فأنھن یعلمنه الغسل و یخلین بینھما حتی یغسله ۔ ۔ ۔ وان ماتت المرأة فی السفر ومعھا أمراة كافرة أو صبي لم یبلغ حد الشھوة، فأنه یفعل بھا کما ذکرنا فی حق الرجال، ھکذا فی المضمرات... وینبغی ان لا یمکن الأب الکافر من القیام بغسل ابنه المسلم أذا مات بل یفعله المسلمون(الفتاوی الہندیة، الفصل الثانی في الغسل،ج:1،ص:176)


فتویٰ نمبر : 10207/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور