بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
شوہر کوخبر کیے بغیر تنسیخ نکاح کی ڈگری حاصل کرنا
سوال
اگر کسی کی بیوی کسی نا محرم مرد کے ساتھ چلی جائے اور اپنے شوہر کے خلاف عدالت میں کیس دائر کرکے تنسیخ نکاح کی ڈگری حاصل کرے اور عدالت کی طرف سے شوہر کو کوئی نوٹس موصول نہ ہوا ہو تو اس طرح عدالت سے تنسیخ نکاح کی ڈگری حاصل کرنے سے طلاق واقع ہوجائے گی یا نہیں ؟ نیز اگر وہ عورت تنسیخ نکاح کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے تو یہ نکاح منعقد ہوجائے گا یا نہیں؟
جواب
اگر شوہر بیوی کے حقوق، نان نفقہ کی ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کررہا ہو اور عورت اس کے باوجود تنسیخ نکاح کا مطالبہ کر رہی ہو تو ایسی صورت میں عورت کا عدالت سے تنسیخ نکاح کی ڈگری لینا جائز نہیں، اور ڈگری حاصل کرنے کی صورت میں عورت قانونی طور پر اگرچہ آزاد ہوتی ہے، لیکن شرعاً آزاد نہیں ہوتی، لہذا وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح نہیں کرسکتی ، کیونکہ وہ اسی سابقہ شوہر کے نکاح میں رہتی ہے۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر بیوی نے شوہر کے خلاف عدالت میں تنسیخ نکاح کےلیے کیس دائر کیا ہو ، لیکن شوہر کو عدالت کی طرف سے کوئی نوٹس موصول نہ ہوا ہو اور شوہر بیوی کے حقوق، نان و نفقہ میں کسی قسم کی کوتاہی بھی نہ کررہا ہو تو اس صورت میں عورت کا عدالت سے تنسیخ نکاح کی ڈگری حاصل کرنا شرعا معتبر نہیں، چناچہ وہ اپنے شوہر کے نکاح میں بدستور رہے گی اور اگر اس عورت نے ڈگری حاصل کرنے کے بعد کسی دوسرے مرد کے ساتھ نکاح کیا ہو تو وہ نکاح منعقد نہیں ہوگا۔
القضاء على الغائب بالبينة لا يجوز فلا بد من خصم حاضر للمدعي ليقيم عليه البينة. ( المبسوط للسرخسي، كتاب الدعوى ، ج: 17، ص: 39)
قال في الفتح ومنها أي من محاسنه جعله بيد الرجال دون النساء لاختصاصهن بنقصان العقل وغلبة الهوى ونقصان الدين۔(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الطلاق، ج:4، ص:429)
لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة۔(الفتاوى الهندية، كتاب النكاح، الباب الثالث في المحرمات، القسم السادس المحرمات التي يتعلق بها حق الغير، ج:1، ص:346)