بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
چوری روکنے کے لیے نماز توڑنا
سوال
چوریاگرگاڑیوں کے سٹینڈکا چوکیدار سٹینڈ کے قریب مسجد میں نماز پڑھ رہا ہواورمسجد سے سٹینڈ نظر آتاہو تواگرکوئی آ کر موٹر سائیکل چوری کرنے لگے اور چوکیدار کی نظراس پر پڑ جائےتو چوکیدار چور کو منع کرنے کے لیے نماز توڑ سکتا ہےیا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ بغیر کسی عذر کےنماز توڑنا جائز نہیں ،البتہ فقہاے کرام نے بعض اعذار کی بنا پرنمازتوڑنے کو جائز قرار دیا ہے ، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی نمازی کو اپنے مال یا غیر کے مال کے ضائع ہوجانے کا خطرہ ہو اور اس مال کی قیمت ایک درہم یا اس سے زائد ہو تو ایسی صورت میں اس کو بچانےکےلیےنماز توڑنا جائزہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر چوکیدار کو یقین ہو کہ اگر میں نماز نہ توڑوں تو موٹر سائیکل چوری ہوجائے گا توایسی صورت میں اس کے لیےنمازتوڑنا جائز ہے۔
(يقطعها)...كما لو ندت دابته أو فار قدرها، أو خاف ضياع درهم من ماله. قال ابن عابدين:قوله:(أو خاف ضياع درهم من ماله) قال في الظهيرية: لم يفصل في الكتاب بين المال القليل الكثير، وعامة المشايخ قدروه بدرهم.قال شمس الأئمة السرخسي هذا حسن لولا ما ذكر في كتاب الحوالة والكفالة أن للطالب حبس غريمه بالدانق فما فوقه، فإذا جاز حبس المسلم بالدانق فجواز قطع الصلاة مع تمكنه من قضائها أولى. والصحيح أنه لا فصل بين ماله ومال غيره. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب إدراك الفريضة، ج:2، ص:51)