بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
رخصتی کے وقت سسرال کے گھر قرآن لے جانا
سوال
ہمارےگاؤں میں شادی کے موقع پر رخصتی کے وقت دلہن کے ساتھ سسرال کے گھر قرآن مجید کا ایک نسخہ لے جاتےہیں، تو کیا اس کی کوئی حقیقت ہے، اور شرعاً ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
رخصتی کے وقت دلہن کے ساتھ سسرال کے گھر قرآن مجیدکا نسخہ لے جانا عمومًااس نیت سے ہوتا ہے کہ قرآن مجید کے سایہ میں جاکر دلہن کو خوشیاں اور برکتیں نصیب ہوں گی، شرعا اس کی کوئی حیثیت نہیں، اس میں قرآن پاک کی بے ادبی کا بھی اندیشہ ہے، اور اپنی طرف سے دین میں اضافے کے مترادف ہے، اس لیے اس سے احتراز کرناچاہیے۔
عن عائشة رضي الله عنها قالت:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (من أحدث في أمرنا هذا ما ليس فيه فهو رد). (صحيح البخاري، كتاب الصلح، باب إذااصطلحواعلى صلح جور فالصلح مردود، ج:2، رقم الحديث:2550)
(ومبتدع) أي صاحب بدعة وهي اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول لا بمعاندة بل بنوع شبهة ۔۔۔۔ قوله وهي اعتقاد إلخ) عزاه هذا التعريف في هامش الخزائن إلى الحافظ ابن حجر في شرح النخبة۔۔۔۔ وحينئذ فيساوي تعريف الشمني لها بأنها ما أحدث على خلاف الحق المتلقى عن رسول الله صلى الله عليه وسلم من علم أو عمل أو حال بنوع شبهة واستحسان، وجعل دينا قويما وصراطا مستقيما اهـ فافهم۔ (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:1، ص:561)