بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

حاملہ عورت کو طلاق


سوال

 کیا حاملہ عورت کو طلاق ہوسکتی ہے؟

جواب

طلاق  کا احسن طریقہ یہ ہے کہ ایسے طہر کی حالت میں ایک رجعی طلاق دی جائے جس میں جماع  نہ کیا ہو  یہاں تک کہ عدت گزر جائے ، نیز اگر طلاق دینا ناگزیر ہو تو حاملہ ہونے کی حالت میں بھی طلاق دی جاسکتی ہے اور اس حالت میں بھی طلاق واقع ہوجائے گی، کیونکہ  حمل وقوع طلاق کے لیے مانع نہیں۔اگر طلاق دے دی گئی تو عورت کی عدت وضع حمل سے مکمل ہوگی۔

 

" أما الطلاق السني في العدد والوقت فنوعان حسن وأحسن فالأحسن أن يطلق امرأته واحدة رجعية في طهر لم يجامعها فيه ثم يتركها حتى تنقضي عدتها أو كانت حاملا قد استبان حملها والحسن أن يطلقها واحدة في طهر لم يجامعها فيه ثم في طهر آخر أخرى ثم في طهر آخر أخرى كذا في محيط السرخسي.(الفتاوی الهنديه،كتاب الطلاق،ج:1،ص:348)

(وحل طلاقهن) أي الآيسة والصغيرة والحامل (عقب وطء)۔(الدرالمختار علی صدر ردالمحتار،ركن الطلاق، ج:3، ص:232)

 وإن كانت حاملا فعدتها أن تضع حملها " لقوله تعالى:(وَأُولاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ)۔ (الهداية، كتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:2، ص:274)


فتویٰ نمبر : 7027/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور