بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
اس گھر میں میں رہوں گا یا تو، الفاظ کہنے سے طلاق کا حکم
سوال
باپ اور بیٹے کےدرمیان اکثر سیاسی بحث واختلاف رہتا تھا یہاں تک کہ اکثر ایک دوسرے سے تعلق بھی ختم کرتے تھے، پھراس لڑکے کی ماں اپنے شوہر کو اپنے بیٹے کی سفارش کرکے ان دونوں کے درمیان صلح کراتی، ایک دن اسی طرح کسی بات پر باپ اور بیٹے کے درمیاں بحث جاری تھی تو درمیان میں بیوی آگئی، تو شوہر نے غصے میں آکر کہا کہ اگرآئندہ تو نے اس نافرمان بیٹے کے بارے میں مجھ سےبات یعنی سفارش کی تویا اس گھر میں میں رہوں گا یا تو، اب اس بیٹے اور باپ کے درمیان تعلق ختم ہے اور یہ عورت چاہتی ہے کہ میں اپنے بیٹے اور شوہر کے درمیان تعلق بحال کروں تو اگر وہ خود یا کسی کے ذریعے یہ تعلق بحال کرے تو کیا اس سے طلاق واقع ہوجائے گی یا نہیں، کیونکہ شوہر نے اس کو یہ دھمکی دی تھی کہ اس گھر میں میں رہوں گا یا تو؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص ایسے الفاظ کا استعمال کرے جو نہ طلاق کے صریح الفاظ ہوں اور نہ کنائی، تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق شوہر کا بیوی کو یہ کہنا کہ "اگرآئندہ تو نے اس نافرمان بیٹے کے بارے میں مجھ سے سفارش کی تو یا اس گھر میں میں رہوں گا یا تو" یہ نہ طلاق کے صریح الفاظ ہیں اور نہ کنائی الفاظ، اس لیے یہ عورت اگر بیٹے اور شوہر کے درمیان صلح کروائے تو اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔
(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية۔ (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الطلاق، ركن الطلاق، ج: 3، ص: 230 )
وألفاظه: صريح، وملحق به، وكناية ۔۔۔۔ وركنه لفظ مخصوص خال عن الاستثناء۔ (الدرالمختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الطلاق، ص:205)
إذا قال لا أريدك أو لا أحبك أو لا أشتهيك أو لا رغبة لي فيك فإنه لا يقع وإن نوى في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في البحر الرائق. (الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الفصل الخامس في الكنايات في الطلاق، ج:1، ص:375)