بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
روغن بلسان کے متعلق روایت کی تحقیق
سوال
کیا ایسی کوئی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو جنگ بدر کے بعد درخت بلسان دوا کے طور پر کھلایا ہو جو آج کل بازاروں میں فروخت ہوتا ہے اور یہ روایت پیش کرتے ہیں؟
جواب
بلسان ایک درخت ہے جس کے چھوٹے چھوٹے پھول ہوتے ہیں،اس سے گوند نکلتا ہے جو طبعاً گرم ہوتا ہے ،جس کو دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، مشہور اطبا جیسے :ابن سینا وغیرہ کے مطابق یہ جلد اور سانس کی بیماریوں میں فائدہ مند ہے ،اس کے علاوہ درد سے آرام،زخموں کو بھرنے ، ذہنی سکون ،عرق النسااور بالوں کی صحت وغیرہ کے لیے اس کا استعمال ہوتا ہے۔
جہاں تک اس کے متعلق سوال میں مذکور واقعہ کا تعلق ہے کہ" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو جنگ بدر کے بعد درخت بلسان دوا کے طور پر کھلایا" تو تلاش کے باوجود مستند کتب حدیث و سیرت میں یہ روایت نہیں ملی ، اگرچہ آپﷺ سے مختلف بیماریوں کے علاج کے سلسلے میں متعدد جڑی بوٹیوں وغیرہ کو بطور دوا استعمال کرنا منقول ہے ،جن کو محدثین نے " طب نبوی" کے عنوان سے کتابوں میں جمع فرمایا ہے، لیکن تلاش کے باوجود ان کتابوں میں بھی اس کا تذکرہ نہیں ملا، پس جب تک کسی معتبر کتاب میں یہ حدیث نہ ملے تو محض اپنے کاروبار کو چمکانے یا دنیاوی فوائد کے حصول کے لیے اس کا بطور حدیث ذکر کرنا اپنی عاقبت کو خطرے میں ڈالناہے،لہذا اس کے بیان کرنے سےاحتراز کرناضروری ہے۔
أخبرني منصور، قال: سمعت ربعي بن حراش، يقول: سمعت عليا، يقول: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «لا تكذبوا علي، فإنه من كذب علي فليلج النار»
(أخرجه البخاري، کتاب العلم، باب إثم من كذب على النبيﷺ،رقم الحديث:106، ج:1، ص:41، الطاف،اینڈسنزكراتشي.)
عن أبي هريرة رضي الله عنه ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:« من كذب علي متعمدا، فليتبوأ مقعده من النار» (مقدمة مسلم،باب تغليظ الكذب على رسول اللهﷺ،رقم الحديث:4،ج:1،ص:67)
بِلِسَان: الْمَاهِيّة: شَجَرَة مصرية تنْبت فِي مَوضِع يُقَال لَهُ عين الشَّمْس فَقَط شَبيهَة الْوَرق والرائحة بالسذاب لَكِنَّهَا أضْرب إِلَى الْبيَاض وقامتها قامة شجر الحضَض ودهنه أفضل من حبه وحبه أقوى من عوده فِي الْوُجُوه كلهَا ودهنه يُؤْخَذ بِأَن يشرط بحديدة بعد طُلُوع الشعرى وَيجمعٓ مَا يرشح بقطنة وَلَا يُجَاوز فِي السّنة أرطالاً۔۔۔الطَّبْع: عوده حَار يَابِس ۔۔۔ودهنه أسخن مِنْهُمَا۔۔۔الْخَواص وَالْأَفْعَال: يفتح السدد وينفع الأحشاء الغليلة. الْجراح والقروح:وینقی القروح ۔۔۔آلَات المفاصل: ينفع من عرق النسا۔۔۔ أَعْضَاء الرَّأْس: ينقي قُرُوح الرَّأْس ۔۔۔أَعْضَاء النَّفس والصدر: عوده وحته ينفعان وجع الجنبين وينفع من الربو الغليظ وضيق النَّفس ووجع الرئة الْبَارِدَة وينفع حبه من ذَات الرئة الْبَارِدَة والسعال وَكَذَلِكَ دهنه وَبِالْجُمْلَةِ هُوَ نَافِع للأحشاء الَّتِي فَوق المراق۔(القانون فی الطب لابی علی سینا، الکتاب الثانی،الجملۃ الثانیۃ فی بیان الادویۃ المفردۃ ،حرف الباء ج:1 ص:384 ، دارالکتب العلمیۃ)