بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

طلاق معلق کی ایک صورت


سوال

میں نے اپنی بیوی کو کہا کہ اگر میں نے یہ کام ابھی اس وقت کیا تو تم مجھ پر طلاق ہو ،لیکن پھر اس وقت وہ کام نہیں کیا بلکہ 8 گھنٹے بعد کیا ،تو کیا طلاق واقع ہو گی یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ طلاق یاتنجیزا ہوگی (جو فوری طور پر واقع ہو  اور کسی شر ط یا وقت کے ساتھ مقید نہ ہو) اور یا مضاف ہو گی  (جس کا وقوع  مستقبل کے کسی وقت کی طرف منسوب ہو) اور یا تعلیقا  ہوگی (جو کسی ممکن الوقوع  واقعے کے ساتھ مشروط ہو ) ، اور جب طلاق معلق ہو،تواس میں جو قیودات لگائی جائیں وہ سب معتبر ہوتی ہیں،یااگرکہیں قید ذکرنہ ہو لیکن عرف ہو تو پھراسکااعتبار ہوگا،پھراگر کسی قید کے بغیر وہ شرط پائی جائے تو اس کا اعتبار نہ ہوگا ۔

صورت مسئولہ میں   سائل کا اپنی بیوی سے یہ کہنا کہ "اگر میں نے یہ کام ابھی اس وقت کیا تو تم مجھ پر طلاق ہو " یہ تعلیق طلاق  ہے،  جس میں اس کا م کے  اسی وقت کرنے کے ساتھ طلاق معلق کی گئی ہے ، چنانچہ  اگر سائل نے اسی وقت وہ کام نہیں کیا ،بلکہ 8 گھنٹے بعد کیا تو شرط پوری نہ ہونے کی وجہ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

 

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق" ۔ (الفتاوى الهندية، الفصل الثالث في تعليق الطلاق، ج:1 ، ص:457)

(قوله فورا) سئل السغدي بماذا يقدر الفور؟ قال بساعة، واستدل بما ذكر في الجامع الصغير: أرادت أن تخرج فقال الزوج إن خرجت فعادت وجلست وخرجت بعد ساعة لا يحنث۔(ردالمختار علی الدرالمختار ، کتاب الايمان: باب اليمين في الدخول و الخروج والسكنى والإتيان والركوب و غير ذلك، ،ج:5،ص:554)

وجملة الكلام فيه أن يكون الطلاق لايخلو ؛ إماأن يكون تنجيزًا،وإماأن يكون تعليقًابشرط،وإماأن يكون إضافة إلى وقت۔(بدائع الصنائع:كتاب الطلاق،ج:1، ص273)


فتویٰ نمبر : 7078/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور