بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

آیت سجدہ پڑھنے سے پہلے سجدہ کرنا


سوال

اگر کوئی شخص قرآن کی  تلاوت کے لیے بیٹھ جائے اور اس کا ارادہ یہ ہو کہ وہ اسی وقت پانچ پارے تلاوت کرے گا ، پھر ایک سجدہ تلاوت کے بعد سجدہ کرے  اور چونکہ اس کا ارادہ یہ ہے کہ وہ مزید تلاوت کرے گا اس لیے  تین چار سجدے اضافی کرتا ہے کہ اگر دوران تلاوت سجدہ آجائے تو یہ ان کی طرف سے ہوجائیں گے،آیا اس طرح سجدہ کرنے سے ذمہ ساقط ہو جائے گا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ سجدہ تلاوت اس وقت تک واجب نہیں ہوتا جب تک اس کے اسباب نہ پائے جائیں اور سجدہ تلاوت واجب ہونے کے  تین اسباب ہیں :خود آیت سجدہ کو پڑھنا ،آیت سجدہ کو سننا یا آیت سجدہ پڑھنے والے امام کی اقتداء میں ہونا ،  اگر سجدہ تلاوت کےان تین  اسباب میں سے کوئی سبب موجود نہ ہوا ہوتو سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوتااور وجوب سے پہلے ادا کرنا معتبر نہیں۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی شخص قرآن کی تلاوت کے لیے بیٹھ جائے  ،اور اس کا ارادہ زیادہ تلاوت کرنے کا ہو ،پھر ایک آیت سجدہ پڑھ کر سجدہ کرے اور بعد کی آیات سجدہ کے لیے  بھی مزید سجدے کرے تو بعد میں آیات سجدہ کی تلاوت کے لیے یہ سجدے کافی نہیں ہوں گے، بلکہ ان کے پڑھنے کے بعد الگ سجدے کرنا واجب ہوگا۔  

 

سجود التلاوة في القرآن أربع عشرة سجدة... ‌والسجدة ‌واجبة في هذه المواضع على التالي والسامع سواء قصد سماع القرآن أو لم يقصد " لقوله عليه الصلاة والسلام " السجدة على من سمعها وعلى من تلاها.(الهداية، كتاب الصلاة، باب سجود التلاوة، ج:1، ص:78)

(قوله:على من تلا، ولو إماما أو سمع، ولو غير قاصد أو مؤتما لا بتلاوته) بيان لسببها،...ولذا قالوا ‌إن ‌الأبكم ‌إذا ‌رأى قوما يسجدون لا يجب عليه السجود؛ لأنه لم يقرأ، ولم يسمع.(البحرالرائق،كتاب الصلاة، باب سجود التلاوة، ج:2، ص:212)

لأن التعجيل ‌قبل ‌السبب لا يجوز بالاتفاق.(التوضيح على التلويح،التعليق بالشرط يوجب العدم عند عدمه،  ج:1،ص:285)


فتویٰ نمبر : 10186/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور