بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

طواف کے بعد دو رکعت نماز کو مؤخر کرنا


سوال

اگر کوئی شخص طواف کے متصل بعد دو رکعت نماز نہ پڑھے بلکہ  متعدد طواف کرنے کے بعد آخر میں  جتنے  طواف کیے  ہیں  سب کے لیے علیحدہ علیحدہ دو  رکعت  نماز پڑھ لے تو کیا اس طرح کرنا جائز ہے؟

جواب

             واضح رہے کہ ہر فرض یا نفلی طواف   کے بعد مقام ابراہیم پر یا مسجد حرام  میں  کسی اور جگہ دو رکعت نماز پڑھنا واجب ہے  بغیر کسی عذر کے اس میں تاخیر کرنا مکروہ ہے تاہم اگر کوئی شرعی عذرہو جیسا کہ مکروہ وقت ہو  تو اس میں تاخیر کی گنجائش ہے۔

            صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص طواف کے متصل بعد بغیر کسی عذر کے  دو رکعت نماز نہ پڑھے اور اس کو مؤخر کرے تو یہ مکروہ ہے تاہم مکروہ وقت ہونے کی وجہ سے یاکسی اور عذر کی وجہ سے  وہ طواف  کے متصل بعد دو رکعت نماز نہ پڑھے اور دوسرا طواف شروع کرے اور پھر آخر میں جتنے طواف کیے  ہیں سب  کے لیے علیحدہ علیحدہ دو  رکعت نماز پڑھے  تو اس کی گنجائش ہے۔

 

ولو طاف أسابيع فعليه لكل أسبوع ركعتان على حدة.(البحر الرائق،باب الإحرام :الاغتسال ودخول الحمام للمحرم، ج:2، ص:356)

ويكره تأخيرها عن الطواف إلا في وقت مكروه أي؛ لأن الموالاة سنة، ولو طاف بعد العصر يصلي المغرب، ثم ركعتي الطواف، ثم سنة المغرب، ولا تصلى إلا في وقت مباح.(البحرالرائق، باب الإحرام :الاغتسال ودخول الحمام للمحرم،ج:2،ص:356)

(قال)، ويكره أن يجمع بين أسبوعين من الطواف قبل أن يصلي في قول أبي حنيفة، ومحمد رحمها الله تعالى.(المبسوط للسرخسي، باب الطواف:الطواف قبل طلوع الشمس،ج:4،ص:47)

(قوله قولان) لم أر من حكى القولين، سوى ما توهمه عبارة النهر، وفيها نظر، والمشهور في عامة الكتب أن صلاتها في المسجد أفضل من غيره، وفي اللباب: ولا تختص بزمان، ولا مكان، ولا تفوت، فلو تركها لم تجبر بدم، ولو صلاها خارج الحرم، ولو بعد الرجوع إلى وطنه جاز، ويكره.(رد المحتار على الدر المختار،فصل في الإحرام، وصفة المفرد، ج:2، ص:499)


فتویٰ نمبر : 10179/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور