بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

کسی مسلمان کو کافر کہنا


سوال

آج کل بہت سارے حضرات یوٹیوب چینل,فیس بک پر بیٹھ کر یا اسٹیجوں پر اپنی تقریروں کے دوران اور دیگر سوشل پلیٹ فارم کے چینلز کے ذریعے سے بغیر کسی ٹھوس دلائل کے دیگر حضرات کو(خواہ عالم دین ہو یا غیر عالم ہو)گمراہ ,بدمذھب,کافر, ناصبی,خارجی اور رافضی کہہ دیتے ہیں۔ شریعت مطہرہ میں کسی مسلم شخص کو اسلام سے خارج قرار دینےیامسلک حق اہل سنت وجماعت سے خارج قرار دینے کا طریقہ کار یا شرائط یا معیار مقرر ہے؟ یا کوئی بھی عالم دین اور مفتی محض الزام تراشی کی بنیاد پرمتعلقہ شخص سے بالمشافہ گفت و شنید ,خط وکتابت یا کسی اور ذریعہ سے رابطہ کیے بغیر اور تفتیش وتحقیق کیے بغیر اپنی مسند پررونق افروز ہوکر کسی کوبھی اسلام اور مسلک حق  اہلسنت سے خارج کرنے کا اختیار رکھتا ہے ؟

جواب

کسی کا فر کو مسلمان یا مسلمان کو کافر قرار دینا انتہائی نازک معاملہ ہے لہذا  اس میں حد درجہ احتیاط کی ضرورت ہے ۔بلا  تحقیق کسی شخص کی تکفیر  کرنے کی ممانعت  احادیث مبارکہ میں آئی ہے ۔چنانچہ آپﷺ کا ارشاد مبارکہ ہے کہ "جب کوئی مسلمان اپنے (مسلمان)بھائی کو کافر کہہ کر پکارتا ہے تو یقیناً یہ لفظ دونوں میں سے کسی ایک کے سر پر پڑتا ہے ۔"

اس میں کوئی شک نہیں کہ عصر حاضر  میں سوشل میڈیا کے ذریعے جھوٹ اور بے بنیاد  ومن گھڑت خبروں کی اشاعت روزمرہ  کا معمول بن گیا ہے ۔ اس لیے کسی بھی شخص  کی  طرف کوئی بات منسوب کی جائے  تو اس میں دجل وفریب  کا قوی امکان  ہوتا ہے چنانچہ  اگر کسی کی طرف  ایسے افعال،اعمال،اقوال یا عقائد  منسوب کئیے جائیں  جو ایمان کے منافی ہو ں، تو ان پر   کوئی حکم  لگانے  میں حد درجہ احتیاط لازم ہے ،کیونکہ تکفیر  کا معاملہ ویسے بھی  حساس اور نازک ہے  ،اور  پھر  جب سوشل میڈیا کے واسطے ہو  تو اس کی نزاکت  وحساسیت  مزید بڑھ جاتی ہے ۔ ایسے حالات  میں  تو حد درجہ  احتیاط اور تثبت  کے بغیر کوئی فیصلہ  ہر گز نہیں کرنا چاہیے ۔

 

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "أيما رجل قال ‌لأخيه: ‌يا ‌كافر، فقد باء بها أحدهما."(صيصح البخارى،‌‌باب: من كفر أخاه بغير تأويل فهو كما قال،رقم الحديث:6104)

إذا كان في المسألة وجوه ‌توجب ‌الكفر وواحد يمنعه، فعلى المفتي الميل لما يمنعه.( ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الجهاد ، باب المرتد، ج:٤،ص:٢٣٠)

لا يخرج الرجل من الإيمان إلا جحود ما أدخله فيه ما تيقن أنه ردة يحكم بها به وما يشك أنه ردة لا يحكم بها إذ الإسلام الثابت لا يزول بشك مع أن الإسلام يعلو وينبغي للعالم إذا رفع إليه هذا أن لا يبادر بتكفير أهل الإسلام مع أنه يقضي بصحة ‌إسلام ‌المكره. ( ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الجهاد ، باب المرتد، ج:٤،ص:٢٢٤)

في جامع الفصولين وفي الفتاوى الصغرى: ‌الكفر ‌شيء ‌عظيم فلا أجعل المؤمن كافرا متى وجدت رواية أنه لا يكفر اهـ وفي الخلاصة وغيرها: إذا كان في المسألة وجوه توجب التكفير ووجه واحد يمنعه فعلى المفتي أن يميل إلى الوجه الذي يمنع التكفير تحسينا للظن بالمسلم زاد في البزازية إلا إذا صرح بإرادة موجب الكفر فلا ينفعه التأويل ح وفي التتارخانية: لا يكفر بالمحتمل، لأن الكفر نهاية في العقوبة فيستدعي نهاية في الجناية ومع الاحتمال لا نهاية اهـ والذي تحرر أنه لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره اختلاف ولو رواية ضعيفة فعلى هذا فأكثر ألفاظ التكفير المذكورة لا يفتى بالتكفير فيها ولقد ألزمت نفسي أن لا أفتي بشيء منها اهـ كلام البحر باختصار. ( ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الجهاد ، باب المرتد، ج:٤،ص:٢٢٤)

ثم قال في البحر والحاصل: أن من تكلم بكلمة للكفر هازلا أو لاعبا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده كما صرح به في الخانية ومن تكلم بها مخطئا أو مكرها لا يكفر عند الكل، ومن تكلم بها عامدا عالما كفر عند الكل.( ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الجهاد ، باب المرتد، ج:٤،ص:٢٢٤)

لا ‌خلاف ‌في ‌كفر المخالف في ضروريات الإسلام من حدوث العالم وحشر الأجساد ونفي العلم بالجزئيات وإن كان من أهل القبلة المواظب طول عمره على الطاعات كما في شرح التحرير. ( ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الصلاة، باب الإمامة،ج:١،ص:٥٦١)


فتویٰ نمبر : 10208/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور