بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
عمرہ میں حلق سے پہلے سلے ہوئے کپڑے پہننا
سوال
اگر کسی شخص نے عمرہ میں سعی کے بعد حلق کرنے سے پہلے سلے ہوئے کپڑے پہن لیا ،تو کیا اس پر دم واجب ہوگا یا نہیں؟
جواب
احرام کی پابندیوں سے نکلنے کے لیے حلق یا قصر ضروری ہے اور احرام کی حالت میں سلے ہوئےکپڑے پہننا ممنوع ہے اس لیے اگر کوئی شخص حلق یا قصر سے پہلے ایک دن یا ایک رات سلے ہوئے کپڑے پہنے تودم لازم ہوگا اگر ایک دن یاایک رات سے کم پہنے ہوں تو صدقہ فطر کی مقدار صدقہ کرنا لازم ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص نے سعی کے بعد حلق یا قصر سے پہلے ایک دن یا ایک رات تک سلے ہوئے کپڑے پہنے ہوں تو اس پر دم لازم ہوگا اور اگر ایک دن یا ایک رات سے کم وقت کے لیے سلے ہوئے کپرے پہنے ہوں تواس پر صدقہ فطر کے بقدر صدقہ کرنا واجب ہوگا۔
(أو لبس مخيطا) لبسا معتادا، ولو اتزره أو وضعه على كتفيه لا شيء عليه (أو ستر رأسه) بمعتاد إما بحمل إجانة أو عدل فلا شيء عليه (يوما كاملا) أو ليلة كاملة، وفي الأقل صدقة (والزائد) على اليوم (كاليوم).
(قوله يوما كاملا أو ليلة) الظاهر أن المراد مقدار أحدهما فلو لبس من نصف النهار إلى نصف الليل من غير انفصال أو بالعكس لزمه دم كما يشير إليه قوله وفي الأقل صدقة شرح اللباب (قوله وفي الأقل صدقة) أي نصف صاع من بر، وشمل الأقل الساعة الواحدة أي الفلكية وما دونها خلافا لما في خزانة الأكمل أنه في ساعة نصف صاع وفي أقل من ساعة قبضة من بر.(رد المحتار مع الدر المختار،كتاب الحج،باب الجنايات في الحج، ج:6، ص:547)