بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

رخصتی اور خلوت سے پہلے فون پر تین طلاقیں دینا


سوال

 میں  نے ایک لڑکی کے ساتھ عدالتی نکاح (کورٹ میرج) کیا تھا ۔ اس نکاح کے سامنے آنے کے بعد لڑکی کے خاندان والوں نے طلاق کا مطالبہ کیا لڑکی پر تشدد کیا اور بار بار جان سے مارنے کی دھمکی دیتے اور یہ کہتے کہ اگر طلاق نہ ہوئی تو ہم لڑکی کو قتل کردیں گے۔ نیز لڑکی والوں کی طرف سے مجھےبھی جان کا خطرہ تھا۔ لڑکی کا خاندان اثر و رسوخ والا تھا اور دھمکی پوری کرنے کی طاقت رکھتا تھا۔ میں نے لڑکی کے والد کو فون پر تین دفعہ طلاق کے الفاظ کہہ دیے وہ الفاظ یہ تھے کے میں نے اس کو طلاق دے دی، میں نے اس کو طلاق دے دی، میں نے اس کو طلاق دے دی۔ کیونکہ لڑکی والے ایک طلاق پر نہیں مان رہے تھے۔واضح رہے کہ رخصتی اور خلوت نہیں ہوئی۔ آپ سے فتویٰ درکار ہے کہ یہ طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں اور کیامیں اب دوبارہ اس لڑکی سے رشتہ کرسکتا ہوں؟

جواب

رخصتی اور خلوت صحیحہ(کسی مانع کے بغیر میاں بیوی کی تنہائی میں ملاقات)سے پہلے  شوہر بیوی کو ایک طلاق یا تین طلاقیں الگ الگ جملوں میں دے دے تو  صرف ایک طلاق بائن واقع ہوتی ہے،اس کے بعدعورت پر عدت گزارنا لازم نہیں ہوتا ، اگر اس کے بعد وہ دونوں دوبارہ  نکاح کرنا چاہیں تو از سر نو مہر مقررکر کے گواہوں کی موجودگی میں نیا  نکاح کرسکتے ہیں ۔البتہ آئندہ شوہر کو دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر  واقعی سائل نے خلوت سے پہلے تین طلاقیں الگ الگ جملوں میں دی ہوں تو اس سے صرف ایک طلاق ِ بائن واقع ہوگئی ہے ،اگر  دوبارہ  باہم رضامندی سےنکاح کرنا چاہیں تو گواہوں کی موجودگی میں از سر نو  نکاح کرسکتے ہیں البتہ آئندہ کے لیے شوہر کو  دو طلاقوں کا اختیار ہوگا ۔

 

" وإذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها " لأن الوقاع مصدر محذوف لأن معناه طلاقا بائنا على ما بيناه فلم يكن قوله أنت طالق إيقاعا على حدة فيقعن جملة " فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة " وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق لأن كل واحدة إيقاع على حدة إذا لم يذكر في آخر كلامه ما يغير صدره حتى يتوقف عليه فتقع الأولى في الحال فتصادفها الثانية وهي مبانة " وكذا إذا قال لها أنت طالق واحدة وواحدة وقعت واحدة " لما ذكرنا أنها بانت بالأولى ". (الهداية، كتاب الطلاق، باب إيقاع الطلاق، فصل في الطلاق قبل الدخول، ج:1، ص:233)


فتویٰ نمبر : 7023/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور