بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
إن الميت ليعذب ببكاء أهله عليه ، حدیث کی وضاحت
سوال
اہل میت کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہےکیا ایسی کوئی حدیث ہے ،اگر ہر تو اس کی وضاحت فرما دیجیے۔
جواب
سوال میں ذکر کردہ وعید حدیث شریف میں وارد ہوئی ہے جواحادیث مبارکہ کی مستند کتابوں میں مختلف سندوں کے ساتھ موجود ہے ۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے محدثین نے مختلف تشریحات کی ہیں ایک تشریح یہ ہے کہ اہل میت کے رونے سے عذاب اس میت کو ہوتا ہے جو اپنے گھر والوں کو رونے کا حکم دے کر مرا ہو یا اس نے رونے سے منع نہ کیا ہو جبکہ رونے کا رواج ہو یا جو اپنی زندگی میں ایسے رونے کو اچھا سمجھتا تھا اور اس کی حوصلہ افزائی کرتا تھا۔ اس اعتبار سے مرنے والے پر گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے ۔
عن عبد الله؛أن حفصة بكت على عمر. فقال: مهلا يا بنية! ألم تعلمي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال "إن الميت ليعذب ببكاء أهله عليه؟ "(صحيح مسلم،كتاب الجنائز، باب الميت ليعذب ببكاء أهله عليه،رقم الحديث:٩٢٧)
قوله صلى الله عليه وسلم إن الميت ليعذب ببكاء أهله عليه وفي رواية ببعض بكاء أهله عليه وفي رواية ببكاء الحي وفي رواية يعذب في قبره بما نيح عليه وفي رواية من يبك عليه يعذب وهذه الروايات... واختلف العلماء في هذه الأحاديث فتأولها الجمهور على من وصى بأن يبكى عليه ويناح بعد موته فنفذت وصيته فهذا يعذب ببكاء أهله عليه ونوحهم لأنه بسببه ومنسوب إليه قالوا فأما من بكى عليه أهله وناحوا من غير وصية منه فلا يعذب لقول الله تعالى ولا تزر وازرة وزر أخرى.( شرح النووى على مسلم،كتاب الجنائز، قوله فذكرت ذلك لموسى بن طلحة...،ج:٦،ص:٢٠٣،رقم الحديث:٩٢٧)