بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
فروخت شدہ باغ میں عشر کا حکم
سوال
میرے پاس آڑو کا باغ تھا اس کو میں نےاپنے دوست پر بیچ دیا لیکن بیچتے وقت اس میں آڑو نہیں تھے بلکہ صرف پھول نکلے تھے اب اس میں آڑو نکل چکے ہیں اب پوچھنا یہ ہے کہ عشر کس پر ہے مجھ پر یا میرے دوست پر؟
جواب
واضح رہے کہ عاقدین کے مابین خرید و فروخت کا معاملہ طے پاتے وقت اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ مبیع(فروخت کی جانے والی چیز) موجود اور معلوم و متعین ہو چنانچہ معدوم چیز کی بیع جائز نہیں۔
صورت مسئولہ کے مطابق چونکہ بیع کے وقت آڑو موجود نہیں تھےاس لیے یہ بیع باطل کے حکم میں ہے چونکہ اس میں مشتری کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی اس لیے پھل بھی بائع کی ملکیت میں ہوں گےاور عشر بھی بائع پرلازم ہوگا ۔
وأما الذي يرجع إلى المعقود عليه فأنواع (منها) : أن يكون موجودا فلا ينعقد بيع المعدوم... وكذا بيع الثمر، والزرع قبل ظهوره؛ لأنهما معدوم .(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، فصل في الشرط الذي يرجع إلى المعقود عليه،ج:5،ص:138)
وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم كالحمل واللبن في الضرع والثمر قبل ظهوره.(ردالمحتار علی الدر المختار ،كتاب البيوع،ج:4،ص:505)
الباطل لا يفيد ملك التصرف۔(فتح القدیر،باب البیع الفاسد،ج:6،ص:404)
(وحكمه) أي حكم البيع الباطل (أن المبيع به لا يملك) أي لا يكون ملكا للمشتري لأن الباطل لا يترتب عليه الحكم.(دررالحكام، حكم البيع الباطل،ج:2،ص:169)