بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
کسی سے مال خریدنے کےبعد اسی کو قبضہ کا وکیل بناکر اپنے گاہک کو بیچنے کا حکم
سوال
ہم بعض دفعہ گاہک کو اپنے پاس چیز موجود نہ ہونے کی وجہ سے کسی اور سے وہ چیز بھجوا دیتے ہیں۔ اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ مثلاً زید مجھ سے کوئی خاص کپڑا منگواتا ہے تو وہ خاص کپڑا اگرہمارے پاس ختم ہوچکا ہو تو آگے جن سے (مثلاخالد سے) ہم مال لیتے ہیں، ان کو آرڈر دیتے ہیں کہ فلاں قسم کا کپڑا زید کے پتہ پربھیج دو، اورخالد کو ہم اپنی طرف سے وکیل بنا دیتے ہیں کہ ہماری طرف سے کپڑے پرقبضہ کرکے زید کو کپڑا اس کے ایڈریس پر بھیج دو،تو خالد ہمارا بائع بھی بنتا ہے اور ہماری طرف سے وکیل بن کر کپڑا آگے بھیج دیتا ہے تو پوچھنا یہ ہے کہ یہ صورت شرعا درست ہے یا نہیں؟ اور اس کپڑے پر ہم نے زید سے جو نفع حاصل کیا ہے، وہ حلال ہے یا نہیں؟ اگر یہ صورت درست نہیں ہے تو اس کی جائز صورت کیا ہوگی؟
جواب
واضح رہے کہ خریدی ہوئی چیز کو قبضہ میں لیے بغیر اسے آگے فروخت کرنا شرعا جائز نہیں ہے، نیز جس سے مال خریدا جائے، اسی کو خریدار کی طرف سے قبضہ کا وکیل بنانا درست نہیں ہے، فروخت کنندہ کے علاوہ تیسرا شخص مال کے قبضہ کا وکیل بن سکتا ہے۔
صورت مسئو لہ کے مطابق سائل کا خالد سے کپڑا خرید کر اسی کو قبضہ کا وکیل بناکر آگے مال فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں ، ایسے فاسد معاملے سے حاصل ہونے والا نفع شرعا جائز نہیں ہوگا۔اس کی جائز صورت یہ ہوسکتی ہے کہ سائل خود یا اس کا نمائندہ (جو کہ خالد کے علاوہ کوئی اور ہو) مال قبضہ میں لے کر پھر آگے زید کو بیچ دے، ایسی صورت میں زید سے حاصل ہو نے والانفع جائز ہو گا۔
عن ابن عباس، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من ابتاع طعاما فلا يبعه حتى يستوفيه، قال ابن عباس: وأحسب كل شيء مثله.(الصجيح للمسلم،کتاب البيوع، باب بطلان بيع المبيع قبل القبض، 3844)
لأن البائع لا يصلح وكيلا عن المشتري في القبض.(المحيط البرهاني، كتاب البيع، الفصل الثاني والعشرون في السلم،ج:7، ص:90)
من حكم المبيع إذا كان منقولا أن لا يجوز بيعه قبل القبض.(الفتاوى الهندية، كتاب البيوع، الباب الثاني فيما يرجع إلى انعقاد البيع، الفصل الثاني في تسليم المبيع، وفيما يكون،ج:3، ص:16)