بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

گاؤں میں نمازِجمعہ ادا کرنے کا حکم


سوال

 

ہمارے گاؤں رغزی اور اس کا ایک محلہ کوڑوی کلہ ہمزونی میدان شاہ کی ٹوٹل آبادی ڈھائی ہزار  افراد پر مشتمل ہیں،جبکہ اس میں تیرہ سٹور، دومیڈیکل  دکانیں، دو ہسپتالیں، ایک زنانہ  ماڈل سکول،ایک گورنمنٹ ہائی سکول اور ایک پرائیوٹ سکول  موجود ہیں۔ جس میں روزمرہ کے تمام  ضروریات  پوری کی جاتی ہیں اوراس  گاؤں میں تقریباً پچاس سال سے مسلسل نماز جمعہ ادا کی جاتی تھی۔ پھر حوادثات کی وجہ سے  گزشتہ کئی سالوں سے نماز جمعہ ترک کی گی اور اب بعض لوگ جمعہ کے جواز کے قائل اور بعض لوگ عدم جواز کے قائل ہیں۔ نیز کوڑوی گاؤں کے باشندوں کے شناختی کارڈ بھی رغزی گاؤں کے نام پر بنتے ہیں یعنی سرکاری طور پر بھی یہ  ایک محلہ رغزی  گاؤں میں شمار ہوتا ہے، اسی طرح رغزی  گاؤں اور کوڑوی گاؤں کے ساتھ بالکل متصل دوسرا گاؤں ورمڑ میں نماز جمعہ ادا ہوتی ہے، اور ورمڑ میں جمعہ کے جوار میں رغزی  گاؤں کا اعتبار کیا گیا  ہے۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا شرعاًرغزی  گاؤں میں جمعہ کی نماز کو دوبارہ شروع کرنادرست ہے یا نہیں؟ اور کیا ورمڑ گاؤں  کو رغزی گاؤں کے ساتھ ایک شمار کر کے جمعہ کے جواز کا فتوی دیا جاسکتا ہے یا نہیں؟  جبکہ  ورمڑ گاؤں  عرف  رغزی گاؤں کا ایک شاخ شمار کیا جاتا ہے۔

جواب

 واضح رہے کہ نماز ِجمعہ کے وجوب ِادا کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ جہاں نماز ِ جمعہ ادا ہوتی ہے وہ جگہ شہر ہویا توابع ِشہر میں سے ہو یا بڑا گاؤں ہو۔ بڑے گاؤں کی تعریف فقہائے کرام ؒ نے اپنے اپنے وقت میں حالات کے مطابق مختلف عبارات سے کی ہے۔ موجودہ دور میں جس گاؤں کی آبادی دو ڈھائی ہزار افراد پرمشتمل ہواور روز مرہ کی ضروریات اس میں میسر ہوں وہ بڑا گاؤں شمار ہوگا۔ اور توابع ِ شہر سےشہر کے مضافات میں واقع وہ آبادی مراد ہے جو مستقل گاؤں نہ ہو بلکہ عرف میں شہر  کے تابع شمار کی جاتی ہو، چنانچہ جو آبادی شہر سے باہر ہو اور مستقل گاؤں کی حیثیت رکھتی ہو اورعرف میں بھی وہ مستقل گاؤں شمار کی جا تی ہوتو اگر وہ خود بڑا گاؤں نہ ہو تو اس میں نماز ِجمعہ جائز نہیں۔

 صورت مسئولہ  میں بیان کردہ حالات سے یہ  واضح  نہیں  ہو رہا کہ رغزی اور کوڑوی کلہ دونوں ایک ہی گاؤں ہے یا دونوں الگ الگ حیثیت رکھتے ہیں اس لیے کوئی رائے قائم نہیں کی جاسکتی، تاہم  وہاں کے مقامی علماء  کرام ومفتیان  حضرات  سے  اس سلسلے میں  رائے طلب کی جائے، کیونکہ وہ اس گاؤں کی حیثیت  سے بہتر واقف ہوں گے۔

 

( ويشترط لصحتها ) سبعة أشياء الأول ( المصر...أو فناؤه ) بكسر الفاء (وهو ما) حوله (اتصل به) أولا (لأجل مصالحه) كدفن الموتى وركض الخيل والمختار للفتوى تقديره بفرسخ.(الدر المختار،كتاب الصلوة، باب الجمعة،ج:1،ص:109)

وتقع ‌فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق.(رد المحتار على الدر المختار، باب  الجمعة،ج:2،ص:138)

العادة محكمة يعني أن العادة عامة كانت أو خاصة تجعل حكما لإثبات حكم شرعي... والعرف والعادة إنما تجعل حكما لإثبات الحكم الشرعي إذا لم يرد نص في ذلك الحكم المراد إثباته.(درر الحکام ،المادة: 36،ج:1،ص:40)


فتویٰ نمبر : 10154/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور