بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
زکوٰۃ کی رقم سے کسی کا علاج کروانا
سوال
میرے دادا کا بھائی دماغی بیمار ہےاور تقریباً 20 سال سےہمارے ساتھ رہتا ہے ،اس کے دو بچے ہیں جو کہ اکثر بیمار ہوتے ہیں اور اسکی بیوی نے بھی بہت اپریشن کیے ہیں ، اب بھی بیمار ہے اور اس کی اپنی زمین بھی ہے، لیکن وہ اپنے والد کا دماغی علاج نہیں کرتے اور پیسے بھی اس بیمار کو نہیں دیتے تو کیا ہم اس کو علاج کرنے کیلئے زکوٰۃ کے پیسے دے سکتے ہیں ؟
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سےمیاں بیوی اور اصول و فروع ( باپ، دادا، پردادا، بیٹا، پوتا، نواسہ وغیرہ ) ایک دوسرے کو زکوۃ نہیں دے سکتے،البتہ بہن، بھائی، بھتیجی، بھانجی وغیرہ رشتہ داروں کو زکوۃ دی جا سکتی ہے بشرط یہ کہ وہ محتاج اور مستحق ہوں۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل کے دادا کا بھائی مریض ہو تو اس کو علاج کے لیے زکوٰۃ کی رقم دینا تب جائز ہے جب وہ مستحق زکوٰۃ ہو۔ چنانچہ اُس کی ملکیت میں جو زمین موجود ہے اگر وہ اس کی ضرورت سے زائد ہو یعنی رہائش اور کھیتی باڑی کے علاوہ ہو اور اُس زمین کی قیمت نصاب تک پہنچتی ہو تو اس کو زکوٰۃ کی رقم دینا جائز نہیں البتہ اس کے بالغ بیٹے اور بیوی اگر مستحق زکوٰۃ ہوں تو ان کو زکوٰۃ کی رقم دی جاسکتی ہے۔
ويجوز دفع الزكاة إلى من سوى الوالدين والمولودين من الأقارب ومن الإخوة والأخوات وغيرهم؛ لانقطاع منافع الأملاك بينهم.(بدائع الصنائع، كتاب الزكاة، فصل حولان الحول..،ج:2،ص:50)
وقيد بالولاد لجوازه لبقية الأقارب كالإخوة والأعمام والأخوال الفقراء بل هم أولى؛ لأنه صلة وصدقة. (ردالمحتار علی الدر المختار، کتاب الزکوة، باب المصرف،ج:3،ص:293)
ولو كان له عقار ملك قيمة العقار مائة درهم والزعفراني والفقيه على الرازي اعتبرا القيمة وأوجبا الأضحية ولو كان له أرض يدخل عليه منها قوت السنة فعليه الأضحية حيث كان القوت يكفيه ويكفي عياله، وإن كان لا يكفيه فهو معسر، وإن كان العقار وقفا ينظر إن وجب له في أيام النحر قدر مائتي درهم فعليه الأضحية.(البحرالرائق، كتاب الأضحية، ج:8،ص:198)