بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بیٹے کا باپ سے دل میں ناراض ہونا


سوال

میں نے ایف ایس سی کی ہے۔ ایف ایس سی کرنے کے بعد میرے والد صاحب نے میری رضامندی کے بغیر مجھے تعلیم سے نکالا اور کام پہ لگا لیا۔ ہم چھ بھائی ہیں اور میں سب سے چھوٹا ہوں۔ والد صاحب کوئی کام نہیں کر رہا ، اور باقی سب بھائی كام کر رہے ہیں۔ مالی لحاظ سے ہم  اچھے ہیں ۔میرا کام نہ کرنے سے اور میرے تعلیمی اخراجات سے ہمارے معاشی حالت پر کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ۔ میں سرکاری کالج میں پڑتا تھا، تعلیم سے نکالنے کی وجہ سے میں اپنے دل میں والد صاحب سے ناراض ہوں۔ انہیں میری  ناراضگی کے بارے میں علم نہیں ۔میں ان کا ہر حکم مانتا ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس ناراضگی (دل میں) کی وجہ سے میں گنہگار ہوں گا؟ اور کیا میرا گلہ / ناراضگی بنتی ہے والد صاحب سے؟ کیا والد صاحب سے بروز قیامت اس کے بارے میں پوچھا جائے گا؟ 

جواب

واضح رہے  کہ اولاد کے ذمے لازم ہے کہ والدین کے ہر جائز حکم کو بجا لائے،اگر اولاد کی طرف سے والدین کے ساتھ حسن سلوک اور حقوق کی ادائیگی کے باوجود والدین اولاد کا خیال نہ رکھیں تب بھی اولاد کو والدین سے سختی سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔قرآن پاک میں ہے کہ والدین اگر اولاد کو شرک پر مجبور کریں تو اولاد ان کی اطاعت نہ کریں لیکن دنیا میں ا ن کے ساتھ پھر بھی اچھا سلوک رکھیں، البتہ والدین کے ذمے  بھی لازم ہے کہ وہ اپنی اولاد کی مصلحت و رضا کا خیال رکھیں۔نیز یہ بھی واضح ہو کہ جب لڑکا بالغ  ہوجائے تو اس کا خرچہ اور تعلیم والد پر واجب نہیں  ہاں اگر والد لڑکے کے با لغ ہونے کے بعد بھی اس کا خرچہ برداشت کرے تو یہ اس کی طرف سے تبرع اور احسان ہے، لیکن اگر بیٹے کے دل میں طبعی طور پر ناراضگی پیدا ہو جائے تو اس سے بیٹا گناہ گار نہیں ہوگا دل میں کسی کے لیے محبت پیدا ہونا یا ناراضگی پیدا ہونا کبھی غیر اختیاری ہوتا ہے اس پر مؤاخذہ نہیں، البتہ اس کی وجہ سے والد کے ادب و احترام اور اس کے حقوق کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہیں برتنی چاہیے۔

 

قال اللہ تعالیٰ: وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا.(الاسراء:23)

وقال: وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ. (لقمان:15)

عن أنس رضي الله عنه قال:سئل النبي صلى الله عليه وسلم عن الكبائر قال: (الإشراك بالله، ‌وعقوق ‌الوالدين، وقتل النفس، وشهادة الزور).(صحیح البخاری، کتاب الشھادات، ج:3،ص:939، رقم الحدیث:2510)

عن عائشة، قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقسم بين نسائه فيعدل، ثم يقول: اللهم ‌هذا ‌فعلي ‌فيما ‌أملك، فلا تلمني فيما تملك ولا أملك.(سنن النسائي، باب القسمةبين النساء، ج:1، ص:633، رقم الحديث:1971)

‌الذكور ‌من ‌الأولاد ‌إذا ‌بلغوا ‌حد ‌الكسب، ولم يبلغوا في أنفسهم يدفعهم الأب إلى عمل ليكسبوا، أو يؤاجرهم وينفق عليهم من أجرتهم وكسبهم، وأما الإناث فليس للأب أن يؤاجرهن في عمل، أو خدمة كذا في الخلاصة.(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الفصل الرابع في نفقة الاولاد، ج:1، ص:562)


فتویٰ نمبر : 5951/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور