بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

حمل کے گرجانے کی خوف سے عورت کے لیے عمرہ کی ادائیگی کو مؤخر کرنا


سوال

ایک عورت کی شادی کے تین سال ہوئے ہیں جس میں تین دفعہ قبل از وقت حمل گرا ہے اور بعد ازاں اس کے دو آپریشن بھی ہوئےہیں، جس کے لیے بطن کو چاک کیا گیا۔ اب الحمدللہ حالت بہتر ہے اور عمرہ کی ادائیگی کا مصمم ارادہ کیا ہے، لیکن ابھی چیک اپ کے بعد ڈاکٹر نے بتایا کہ" حمل ابتدائی حالت میں ہے یعنی دوسرے مہینے کا حمل ہے اور ساتھ میں رحم کے قریب ایک رسولی بھی ہے۔ چونکہ عمرہ کے فرائض و واجبات ادا کرنا ایک کٹھن کام ہے، اس لیے خدشہ ہے کہ کہیں اس دفعہ بھی حمل  گِر نہ جائے۔ اس لیے اولاد پیدا ہونے کے بعد عمرہ  کے لیے چلی جائے "۔ کیا اب یہ عورت عمرہ کی ادائیگی کے لیے چلی جائے یا ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق عمرہ کی ادائیگی کو مؤخر کرے؟

جواب

عمرہ ایک مبارک اور سنت عمل ہے، اگر کوئی شخص استطاعت رکھتا ہواورعمرہ ادا کرے تو باعثِ ثواب ہے، لیکن اگر کوئی شخص عذر سے یا بلاعذر عمرہ ادا نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی حاملہ عورت کو عمرہ کی ادائیگی  کے لیے جانے کی صورت میں حمل کے گر جانے کا خوف ہو، تو عمرہ کی ادائیگی کو مؤخر کرلے اور پھر بعد میں موقع مل جائے تو عمرہ کی ادائیگی کے لیے چلی جائے۔

 

وهي في الشرع زيارة البيت والسعي بين الصفا والمروة على صفة مخصوصة وهي أن تكون مع الإحرام، هكذا في محيط السرخسي ‌العمرة عندنا سنة وليست بواجبة.(الفتاوى الهندية، كتاب المناسك، مسائل في الإحرام، ج:1،ص:237)


فتویٰ نمبر : 10178/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور