بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
تین طلاقوں کے بعد دوبارہ نکاح کا حکم
سوال
ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں ایک ہی مجلس میں دیں اب اس کے لئے عدت ،نفقہ اور مہر کا کیا حکم ہوگا ۔نیز اگر یہ عورت دوبارہ اس شوہر کے ساتھ نکاح کرنا چاہتی ہو تو اس کے لئے کیا طریقہ ہوگا ؟
جواب
واضح رہے کہ تین طلاقیں دینے کی صورت میں بیوی شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجاتی ہے۔اگر اس عورت کو حیض آتاہو تو اس عورت کی عدت تین حیض ہوگی اور اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہوگی ،عدت کے دوران اس کا نان نفقہ اور رہا ئش شوہر کے ذمے لازم ہو گا،اگر یہ مطلقہ عورت دوبارہ اس شوہر سے نکاح کرنا چاہتی ہو تو یہ اس وقت ممکن ہےجب اس پہلے شوہر سے عدت گزار کر اپنی مرضی واختیار سے کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے اور اس دوسرے شوہر سے ہمبستری بھی ہوجائے اس کے بعد اگر وہ اسے طلاق دے دے یافوت ہوجائےتو اس دوسرے شوہر سے عدت گزارنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔
قال الله تعالى:﴿وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ ﴾.(البقرة:٢٢٨
وقال:﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ﴾۔(البقرۃ: ٢٣٠ )
وقال: ﴿وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً﴾(النساء:٤)
وقال :﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ﴾.(الطلاق:٢)