بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
بہنوں کو میراث میں حصہ نہ دینے والے کے ساتھ مشترکہ قربانی کرنا
سوال
اگر کوئی شخص وراثت میں اپنی بہنوں کو حصہ نہیں دیتا بلکہ ایک بہن کا نام بھی وراثتی انتقال میں اندراج نہیں کرواتا۔تو کیا ایسے شخص کے ساتھ مشترکہ قربانی کی جاسکتی ہے ؟اور ایسے شخص کے ساتھ روزمرہ زندگی کے معاملات میں حسن سلوک کرنا چاہیے جب کہ وہ پانچوں ٹائم کا نمازی بھی ہے۔
جواب
والدین کے ترکہ میں جس طرح بیٹوں کا حق ہوتا ہے اسی طرح بیٹیوں کا بھی شرعی حصہ مقررہے،چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ﴾(النساء:١١)۔ترجمہ:(اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو حکم دیتا ہے کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے)،لہذا والدین کی وفات کے بعد ترکہ پر بھائیوں کا خود تن ِتنہا قبضہ کر لینا اور بہنوں کو ان کے شرعی حصے سے محروم کرنا ناجائز اور بڑا گناہ ہے۔
قربانی کے لیے مال کا حلال ہونا ضروری ہے ،لہذا اگر کسی شخص کے مال کا غالب حصہ حرام ہو تو ایسے شخص کے ساتھ قربانی میں شریک ہونا جائز نہیں اور اگر غالب حصہ حلال ہو تو اس کو قربانی میں شریک کرسکتے ہیں۔نیز اگر غالب مال حرام ہو لیکن قربانی کے لیے وہ حلال مال پیش کرے تو تب بھی اس کے ساتھ قربانی میں شریک ہونا جائز ہے ۔
صورت مسئولہ کے مطابق مذکورہ شخص کے مال کا غالب حصہ اگر حلال ہو یا وہ قربانی کے لیے حلال مال پیش کرے تو اس کے ساتھ مشترکہ قربانی جائز ہے،بصورت دیگر قربانی جائز نہیں۔نیز کسی بندے کے غیر شرعی کاموں کی وجہ سے حسن سلوک ترک نہیں کرنا چاہیے۔
آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته والأكل منها، كذا في الملتقط.(الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات، ج:5، ص:343)
والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه.(رد المحتار مع الدر المختار، كتاب البيوع،باب بيع الفاسد،مطلب فيمن ورث مالا حراما، ج:7، ص:301)