بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
حج بدل میں حج تمتع کرنا
سوال
حج بدل کرنے والا کیا حج تمتع کر سکتا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی کی طرف سے حج بدل کررہا ہو تو اس کےلیے حج افراد کرنا بہترہے، لیکن آمر کی اجازت سے قِران یا تمتع کرنا جائز ہے، لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص حج بدل کررہا ہو تو اگر آمر نے حج تمتع کی اجازت دی ہو تو بلا شبہ اس کےلیے حج بدل میں حج تمتع کرنا جائز ہے۔
وينبغي للآمر أن يفوض الأمر إلي المأ مور، فيقول :حج عني كيف شئت مفردا أو قارنا زاد في اللباب أو متمتعا ۔۔۔ ففي الخانية قال الشيخ الامام أبو بكر محمد بن الفضل: إذا أ مر غيره أن يحج عنه أن يفوض الأمر إلي المأمور فيقول: حج عني بهذا المال كيف شئت إن شئت حجة، وإن شئت حجة وعمرة وإن شئت قارنا والباقي من المال مني لك وصية كي لايضيق الأمر علی الحاج، ولا يجب عليه رد مافضل إلي الورثة. ( غنية الناسك، كتاب الحج، باب الحج عن الغير، ص: 343)