بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
طلاق کو کسی شرط سے معلق کرنا
سوال
میرے اوپر قرضہ تھا جب بھی میں گھر فون کرتا تو میری بیوی دوسری بات نہیں کرتی اور کہتی کہ قرضے کا کیا ہوا لوگ پیسے مانگ رہے ہیں،بس میں بہت تنگ ہوا اور کہا کہ "جب تک میں قرضہ ادا نہ کروں تو گھر فون نہیں کروں گا اوراگر گھر فون کیا تو تم مجھ پر طلاق ہو" تو کیا صرف ان الفاظ کے کہنے سے میری بیوی پر طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟
جواب
شریعت مطہرہ میں طلاق کو اگر کسی شرط کے ساتھ معلق کیاجائے تو شرط کے پائے جانے کی صورت میں طلاق واقع ہوجائے گی۔
صورت مسؤلہ کےمطابق چونکہ شوہر نےطلاق کو قرضہ ادا کرنے سے پہلے گھر فون کرنے کے ساتھ معلق کیا ہے،لہذا اگر شوہر قرضہ کی ادائیگی سے پہلے گھر فون کرےگا، تو بیوی کوایک طلاق رجعی واقع ہوجائے گی۔اس کے بعد عدت گزرنے سے پہلے پہلے شوہر کو رجوع کرنے کا اختیار ہوگا ،اگر عدت کے اندر رجوع کرلیا تو آئندہ شوہر کے پاس دوطلاقوں کا اختیار باقی رہے گا، لیکن اگر شوہر نے عدت کے اندر رجوع نہیں کیا تو عدت گزرنے کے بعد عورت بائنہ ہوجائے گی ۔چنانچہ پھر باہم رضامندی سے تجدید نکاح کے بغیر اکٹھے نہیں رہ سکتے ۔
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.(الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الباب الرابع فى الطلاق بشرط،ج:1، ص420)